انتخابی عمل میں شفافیت کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کا استعمال اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا راستہ اختیار کرنا اشد ضرری ہے ، وزیر مملکت علی محمد اور دیگر رہنماوں کی گفتگو

انتخابی عمل میں شفافیت کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کا استعمال اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا راستہ اختیار کرنا اشد ضرری ہے ، وزیر مملکت علی محمد اور دیگر رہنماوں کی گفتگو

اسلام آباد :وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں نے انتخابی اصلاحات اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی عمل میں شفافیت کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ سے مدد لینا ہو گی اور اس کیلئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے، الیکٹرانک ووٹنگ کے حوالہ سے آرڈیننس اسمبلی میں بحث کیلئے پیش کر دیا جائے گا۔’’اے پی پی‘‘ ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور ہمارے عوام جمہوری سوچ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے ہمیشہ آزاد فیصلہ کیا ہے

، جو بھی عوام کے مفاد کا کام کرتا ہے عوام اس کو پذیرائی بخشتے ہیں مگر اس کے باوجود عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے، لوگ ووٹ کسی اور کو دیتے ہیں نکلتا کسی اور کا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا ماحول ہونا چاہئے کہ کوئی بھی شخص الیکشن لڑ سکے اور عوام آزادانہ اور پرامن ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ 1971 سے اب تک جتنے بھی الیکشن ہوئے ہمیشہ ان پر سوالات اٹھائے گئے، اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات کرانے کا سوچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ میں بھی عمران خان نے بھارت جیسے ازلی دشمن کے خلاف ہوم سیریز میں نیوٹرل ایمپائر متعارف کرائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت وزیراعظم عمران خان کے وژن کے تحت پاکستان میں بھی ایک نیا سیاسی کلچر لانا چاہتی ہے جس کے ذریعے الیکشن کے عمل کو صاف اور منصفانہ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بالکل دعویٰ نہیں کرتے کہ اس سے سو فیصد شفافیت آئے گی تاہم اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ بہت حد تک انتخابی عمل میں بہتری آئے گی،

اسی لئے اس حوالہ سے آرڈیننس بھی لایا گیا ہے جسے ہم اسمبلی میں پیش کریں گے، بحث کے دوران اپوزیشن اس میں اپنی ترامیم بھی لا سکتی ہے اور اپوزیشن کے گلے شکوے بھی دور ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ووٹنگ کے نظام پر اٹھنے والے سوالات کا ازالہ ہو گا، وزیراعظم عمران خان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالہ سے وزارت پارلیمانی امور اور وزار ت سائنس و ٹیکنالوجی کو ذمہ داری سونپی ہے، بیرون ملک پاکستانیوں کی ووٹنگ کے حوالہ سے ٹاسک آئی ٹی کی وزارت کو دیا گیا ہے۔ علی محمد خان نے کہا کہ اگر ہم صاف شفاف اور منصانہ نظام چاہتے ہیں تو اس کیلئے سائنس و ٹیکنالوجی کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان نے کہا کہ جمہوریت ایک ارتقائی عمل ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آتی رہتی ہیں آئین میں مختلف ترامیم اس کا واضح ثبوت ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات بھی موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہیں اور ہمیں دنیا بھر کی طرح ای وی ایم کی طرف جانا ہوگا، اسی طرح 28 ارب روپے زرمبادلہ بھیجنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا دینا ہوگا جس کے لئے ہمیں انتخابی اصلاحات کی کمیٹی تشکیل دینا ہوگی۔تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری احمد جواد نے کہا کہ ماضی میں تمام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں اس خرابی کو ختم کرنے اورشفافیت لانے کیلئے ہر طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بہترین نظام سے انتخابی عمل میں شفافیت اور طریقہ کار کا تعین کیا جاسکتا ہے اس کیلئے تمام فریقین سے مشاورت ضروری ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اس عمل پر حکومت کا ساتھ دینا چاہئے۔ وزیراعظم الیکٹرانک ووٹنگ سمیت انتخابی اصلاحات کے خواہشمند ہیں یہ عمل تمام جماعتوں کے مفاد میں ہے اس ملک میں سیاسی استحکام آئے گا