نادہندہ عمران کیسے الیکشن لڑ رہا ہے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی

نادہندہ عمران کیسے الیکشن لڑ رہا ہے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی

اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کہا ہے کہ عمران خان خیبر پختونخوا حکومت کے نادہندہ ہیں، انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کیسے دی گئی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کی پیشی، بلیو ایریا میں طیبہ گْل کے ساتھ ملاقات کی تردید کردی، کہا کہ یاد نہیں کہ خاتون وزیراعظم ہاؤس میں ملنے آئیں، انھوں نے وزیراعظم ہاؤس اور سٹیزن پورٹل کا ریکارڈ چیک کرنے کی استدعا کردی جبکہ پی اے سی نے جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی سے ہٹانے کی سفارش کردی۔

اجلاس میں شیخ روحیل اصغر نے سوال اٹھایا کہ نیب میں مونس الٰہی کا کیس کس نے بند کروایا اور کیوں؟۔ کمیٹی نے اس حوالے سے بھی تفصیلات طلب کرلیں۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا، کمیٹی نے کے پی حکومت کا ہیلی کاپٹر بغیر ادائیگی استعمال کرنیوالے عمران خان سمیت 1800 افراد کی فہرست کمیٹی اور الیکشن کمیشن کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

کمیٹی نے کہا واجبات ادا کئے بغیر سفر کرنیوالے نادہندہ ہیں، صرف عمران خان کے ذمہ 7 کروڑ روپے سے زائد واجب الادا نکلے، الیکشن کمیشن کو ان کیخلاف ایکشن لینا چاہئے۔سابق وزیر اعظم خیبر پختونخوا حکومت کے نادہندہ ہیں،انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کیوں دی گئی۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان 3 مرتبہ طلبی کے بعد بالآخر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش ہوگئے۔

نور عالم خان نے کہا کہ آپ پر طیبہ گل کو ایک ماہ تک وزیراعظم ہاؤس میں رکھنے کا الزام ہے جس پر سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے بھرپور طریقے سے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں کبھی اس خاتون سے نہیں ملا، ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک ماہ تک کوئی وزیراعظم ہاؤس میں رہے اور ریکارڈ میں کچھ نہ ہو۔اعظم خان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے یاد نہیں کہ وہ خاتون کبھی وزیراعظم ہاؤس آئی تھی، بہتر ہے وزیراعظم ہاؤس اور سٹیزن پورٹل کا ریکارڈ چیک کرلیا جائے۔

کمیٹی چیئرمین نور عالم کے پوچھنے پر اعظم خان نے بلیو ایریا میں کسی کے دفتر جانے اور طیبہ گل سے ملنے کی بھی تردید کردی۔چیئرمین پی اے سی نے کہا طیبہ گل کیس ہم انکوائری انسداد ہراسگی کمیشن کے سپرد کرچکے ہیں۔

کمیٹی نے عدلیہ سمیت مختلف سرکاری اداروں میں اہم نشستوں پر تعینات دوہری شہریت کے حامل افسران کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا جبکہ وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز سمیت قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کی فہرست بھی مانگ لی، نورعالم خان نے کہا کہ 23 سال گذر گئے نیب کے رولز نہیں بنائے گئے۔