دْبئی میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا ایک اور واقعہ

بھارتی مسلمان نے ایک ہم وطن ہندو کو نوکری کے لیے درخواست دی تو اس نے جواب دِیا ”پاکستان دفع ہو جاؤ“

دْبئی میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا ایک اور واقعہ

دْبئی(عالمین نیوز) متحدہ عرب امارات میں بھارت سے تعلق رکھنے والے ہندو کاروباری اور تجارتی شعبوں پر پوری طرح قابض ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے زیادہ تر پْرامن اور اماراتی قوانین کی پابندی کرنے والے ہیں، تاہم ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو اپنی مضبوط مالی حیثیت اور انتظامی عہدے کا فائدہ اْٹھا کر صرف ہم وطن ہندوؤں کو ہی نوکریاں دیتے ہیں، جبکہ پاکستانی اور بھارتی مسلمانوں کو اپنی متعصبانہ سوچ کی بناء پر نوکریاں دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔گزشتہ روز دْبئی کی ایک معروف مالیاتی کمپنی کے فنانس مینجر متیش اْدیشی کی جانب سے اپنی ایک پوسٹ میں کورونا کے مسلمان مریضوں کو خوفناک تباہی پھیلانے والے جہادی قرار دیا تھا۔ امارات میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے۔