عملی زندگی میں کامیابی کیلئے انٹرن شپ کی اہمیت

عملی زندگی میں کامیابی کیلئے انٹرن شپ کی اہمیت

بیچلرز یا ماسٹرز ڈگری کے آخری سال میں طلبا کے لیے یہ لازمی ہوتا ہے کہ وہ اپنی ڈگری سے متعلقہ یا اپنی پسند کے کسی بھی شعبہ یا صنعت میں تربیتی مقصد کے تحت اِنٹرن شپ کریں۔ اس سے طلبا کو اپنی انتظامی اور تکنیکی مہارتیں نکھارنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ انٹرن شپ ہنر مند افرادی قوت کی بنیاد ہے۔ انٹرن شپ ملازمت کاوہ تجرباتی دورانیہ ہے، جس سے گزرے بغیر کوئی نوجوان عملی زندگی میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔

کسی بھی صنعت کو سمجھنے کے لیے کم از کم تین ماہ سے ایک سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ بہت سے تعلیمی شعبہ جات ایسے ہیں، جن میں انٹرن شپ تعلیمی کورس کا لازمی جزو ہے، جیسے میڈیکل، وکالت، چارٹرڈ اکاؤنٹنسی وغیرہ۔ ان شعبہ جات کے طلبا کو ڈگری کے بعد مزید ایک سال انٹرن شپ (اس کا نام ہر صنعت کے اعتبار سے مختلف ہوسکتا ہے) کرنا لازمی ہوتی ہے اوراس کی تکمیل کے بعد ہی ان کو ملازمت یا پریکٹس کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

انٹرن شپ کے فوائد

نوجوان گریجویشن یا پوسٹ گریجویشن کے بعد جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو اس وقت ان کی عمر22سے25سال کے درمیان ہوتی ہے۔ عملی زندگی کے آغاز سے پہلے وہ ایک خیالی دنیا میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً ان کے ذہن میں خیال ہوتا ہے کہ انھوں نے ایک نامور تعلیمی ادارے سے بہت بڑی ڈگری حاصل/کورس مکمل کیا ہے، ان کا تعلیمی ریکارڈ بھی بہت شاندار ہے، لہٰذا کمپنیاں ان کا نہیں بلکہ وہ کمپنی کا انتخاب کریں گے، تاہم ضروری نہیں کہ ہر نوجوان کا یہ خیال درست ثابت ہو۔ مزید برآں، کووِڈ19-نے نوکری اور کام کے نئے مواقع کو بہت متاثر کیا ہے۔

اچھی نوکری کا حصول ہرایک کے لیے ممکن نہیں اور اس کے لیے صرف اچھی تعلیم اور اچھے گریڈز ہی کافی نہیں کیونکہ مارکیٹ میں جن مہارتوں کا زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ تعلیمی نصاب میں بھی شامل ہوں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ نظامِ تعلیم، انڈسٹری کی ہنرمند افرادی قوت کی ضروریات کے عین مطابق نہیں ہے۔  ہر صنعت سے متعلق کچھ ایسی معلومات ہوتی ہیں جو نہ تو میڈیا میں آتی ہیں اور نہ ہی یہ تعلیمی نصاب میں شامل ہوتی ہیں، بلکہ یہ معلومات آپ کو صرف اور صرف اس فیلڈ میں جا کر ہی حاصل ہوسکتی ہیں۔ انٹرن شپ کی بدولت آپ کو کئی باتوں کا پہلے سے علم ہو جاتا ہے، جس کی بدولت آپ کا مستقبل میں قیمتی وقت بچتا اور فیصلہ سازی کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

انٹرن شپ کے دوران آپ کو یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ کس شعبے میں نوکریوں کی گنجائش زیادہ ہے، یا مارکیٹ میں کس قسم کی صلاحیتوں کے لوگوں کو زیادہ معاوضہ اور مراعات دی جاتی ہیں۔ نیز یہ بھی کہ اس وقت آپ کی ذات کے اندر کن صلاحیتوں کی کمی ہے، کون سا کورس یا مہارت حاصل کرنا اس شعبے میں کامیابی کے لیے لازمی ہے، یا آپ کے پاس جو ڈگری یا مہارت موجود ہے اس کا مستقبل کتنا روشن ہے۔ یہ سب باتیں آپ کو مارکیٹ میں انٹرن شپ کرکے ہی معلوم ہوسکتی ہیں۔

نجی شعبے میں عموماً ملازمین کی آمد و رفت سارا سال جاری رہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ سینئر افراد بہتر تنخواہ، سہولیات اور اُونچی پوزیشن کی خاطر ایک کمپنی چھوڑ کر دوسری کمپنی میں ملازمت کر لیتے ہیں ۔ ایسے مواقع پر مینجمنٹ عموماً نئے سینئرز ملازمت پر رکھنے کے بجائے کمپنی کے اندر کسی جونیئر کو ترقی دے دیتی ہے اور جونیئر کی سیٹ پر انٹرن شپ کرنے والے کو نوکری کی پیشکش کی جاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ نئے شخص کو کمپنی کا ماحول اور طریقہ کار سمجھنے اور اس کے مطابق کام کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ اس لیے انٹرن شپ کی صورت میں آپ کو اچھی کمپنی میں زیادہ آسانی سے مستقل جاب بھی مل سکتی ہے، دوسری صورت میں ایک جاب پر کئی امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا ہے۔

انٹرن شپ کے دوران تنخواہ کے بجائے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے، لیکن بہت سی جگہوں پر بہت ہی کم وظیفہ ملتا ہے۔ اتنا کم کہ اس سے صرف دوپہر کا کھانا اور آفس آنے جانے کا کرایہ ہی بمشکل ادا ہوپاتا ہے، جبکہ زیادہ تر کمپنیاں تو صاف صاف کہہ دیتی ہیں کہ’’یہاں انٹرن شپ کے دوران تنخواہ/وظیفے کا کوئی چکر نہیں ‘‘۔