الیکشن کمیشن نے فوری طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیوں کے کام کا آغاز کر دیا ،

الیکشن کمیشن نے فوری طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیوں کے کام کا آغاز کر دیا ،

اسلام آباد :الیکشن کمیشن نے فوری طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیوں کے کام کا آغاز کر دیا ہے جبکہ 13 اپریل تک عام انتخابات کے لئے مکمل ایکشن پلان بھی طلب کر لیا ، پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے فوری انعقاد کےلئے وفاقی سیکرٹری خزانہ اور چیف سیکرٹری پنجاب کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، این اے 33 ضلع ہنگو میں ضمنی انتخاب کے لئے پولنگ 10 اپریل کی بجائے 17 اپریل کو ہو گی۔

الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس جمعہ کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں ہوا جس میں الیکشن کمیشن کے ممبران اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ الیکشن کمیشن نے ملک کی سیاسی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ڈیجیٹل مردم شماری جس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکااس کااتنظار کئے بغیر 2017 کی مردم شماری کےاعدادوشمار کی بنیاد پر فوری طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام حلقہ جات کی حلقہ بندی کے کام کا آغاز کردیا ہے۔

کمیشن نے حکم دیا کہ یہ کام ہنگامی بنیادوں پر 4 ماہ کے اندر اندر مکمل کیا جائے۔ کمیشن نے کہا کہ صوبائی حکومتوںکو تحریر کیاجائے کہ تقشہ اور دیگر اعدادوشمار فوری طور پر الیکشن کمیشن کو مہیا کریں تاکہ الیکشن کمیشن اس کی تکمیل یقینی بنائے۔الیکشن کمیشن نےسیکرٹری کمیشن اور سپیشل سیکرٹری کمیشن کو حکم دیاکہ وہ 13 اپریل کو الیکشن کمیشن کے سامنے عام انتخابات کے لئے مکمل ایکشن پلان پیش کریں تاکہ تمام امور کی مانیٹرنگ اور بروقت تکمیل یقینی بنائے۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ ملک میں بہتری ،

جمہوری عمل کے تسلسل، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے لئے اپنا آئینی کردار ادا کر رہےہیں اور آئندہ بھی اسے یقینی بنائیں گے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے حکومت پاکستان اور خزانہ ڈویژن کو صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے ضروری فنڈز کے لئے مراسلہ تحریر کیا کیونکہ بلدیاتی انتخابات پہلے ہی تاخیر کا شکار ہو چکے ہیں اس کا مزید التوا ءآئین اور قانون کی خلاف ورزی ہو گی۔

فنانس ڈویژن کے مشورے کے مطابق الیکشن کمیشن نے ای سی سی کی منظوری کے لئے ضمنی گرانٹ کی سمری بھیجی جو ای سی ی نے منظوری کے بعد کابینہ کو منظوری کے لئے بھجوائی ۔ کابینہ نے اس کی منظوری دی اور فنانس ڈویژن نے فنڈز کی منظوری کا مراسلہ بھی الیکشن کمیشن کو ارسال کر دیا کہ الیکشن کمیشن کی ضرورت کے مطابق ضروری فنڈز مہیا کئے جائیں گے لیکن الیکشن کمیشن کے افسران نے فنانس ڈویژن کے افسران سے فنڈز جاری کرنے کے لئے رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ حکومت پنجاب نے اپنے حصہ کے فنڈز کے لئے ضروری این او سی جاری نہیں کیا

جس کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کے لئے مطلوبہ فنڈز الیکشن کمیشن کو فراہم نہیں کئے جاسکتے۔الیکشن کمیشن نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیا اور کہا کہ آئینی اورقانونی طورپر الیکشن کمیشن مالی اور انتظامی اعتبار سے خودمختار ادارہ ہےاور حکومت پاکستان اور تمام صوبائی حکومتیں مکمل مالی اور انتظامی تعاون کی پابند ہے لیکن مختلف وجوہات کو جواز بنا کرالیکشن کمیشن کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔