سی پیک کے دوسرے مرحلے میں مالی ثمرات عوام تک پہنچائے جائیں گے۔، جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ

منصوبے پر عملدرآمد کا سلسلہ تیز تر ہو چکا ہے، سست روی کی افواہوں کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں، آن لائن مکالمے کے دوران اظہار خیال

سی پیک کے دوسرے مرحلے میں مالی ثمرات عوام تک پہنچائے جائیں گے۔، جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ

اسلام آباد:.  چئیرمین سی پیک اتھارٹی لفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے جس میں منصوبے کے معاشی ثمرات پاکستان کے عوام تک پہنچائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر اور بلوچستان میں غیر معمولی اقتصادی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے اور ان میں مقامی افراد کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اس امر کا اظہار انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام ’گوارد بندرگاہ،  اورفری اقتصادی زون کا بلوچستان اور خطے کی مربوطی میں کردار‘ کے زیر عنوان آن لائن مکالمے کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ  نے کہا کہ یہ تاثر قطعی طور پر بے بنیاد ہے کہ سی پیک منصوبہ سست روی کا شکار ہے۔ اس کے برعکس منصوبے کے تحت شروع ہونے والی سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگست کے تیسرے ہفتے میں رشکئی فری اقتصادی زون کے حوالے سے معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا رجحان اب گوادر کی جانب ہو رہا ہے۔ گوادر بندرگاہ اور ائرپورٹ اب مکمل طور پر کھول دئے گئے ہیں اور گوادر ڈسٹرکٹ اقتصادی زون کی تکمیل تیزی سے جاری ہے۔

پاکستان میں متعین چین کے سفیر یاؤ جنگ نے اس موقع پر کہا کہ گوادر خطے کے مربوطی اور مجموعی ترقی میں انتہائی اہم حیثیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی سمیت حکومت پاکستان کے مختلف محکموں نے منصوبے کی سرعت کے ساتھ تکمیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ٹیکسوں کے حوالے مراعات کے اعلان کے بعد سرمایہ کاروں کا رخ گوادر کی جانب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔  انہوں نے کہا کہ چینی حکومت گوادر ہی نہیں بلکہ پورے بلوچستان کو ترقی دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسیع کرے گی۔

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل (چین) مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان کے درمیان مختلف اقتصادی شعبوں میں تعاون کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ تاہم ماہی پروری اور گوشت کو محفوظ بنائے جانے کے لیے منصوبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے قبل ازیں زرعی شعبے پاکستان اور چین کے تعاون کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہو ئے کہا کہ اس شعبے میں تعاون کے فروغ سے پاکستان میں غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

مکالمے کے دوران سی او پی ایچ سی کے چئیرمین ژنگ باؤژونگ، اسلام آباد سٹاک ایکسچینج کے سابق چئیرمین زاہد لطیف خان اور ایس ڈی پی آئی کے شکیل احمد رامے نے بھی سی پیک، گوادر بندرگاہ اور پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کی مختلف جہتوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اس خطے کے عوام کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔