لاہور علم و ادب کا شہر قرار،مگرپنجاب سرکار نے پنجابی زبان، ادب اور صوفی شاعر شاہ حسینؒ کو ہی نظر انداز کر دیا

لاہور پنجاب کا دارالحکومت ہے پر یہ پنجاب کا مان ہے، اگر لاہور کے ادب سے پنجابی زبان اور پنجابی ثقافت کو نکال دیا جائے تو پھر پیچھے کیا بچتا ہے

لاہور علم و ادب کا شہر قرار،مگرپنجاب سرکار نے پنجابی زبان، ادب اور صوفی شاعر شاہ حسینؒ کو ہی نظر انداز کر دیا

لاہور:  پنجابی سنگت پاکستان نے ”یونیسکو“ کی جانب سے لاہور شہر کو پاکستان کا لٹریری شہر قرار دیئے جانے پر ”یونیسکو“ کے اس اقدام کی تعریف کی۔ پر اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر اتشویش کا اظہار کیا گیا کہ گورنمنٹ پنجاب کے ادارے جن میں اطلاعات و نشریات، ادب و ثقافت،صوبائی سیکرٹری اطلاعات، چیف سیکرٹری پنجاب، صوبائی سیکرٹری کلچر، اکادمی ادبیات، الحمراء آرٹ کونسل، پنجاب آرٹ کونسل، وفاقی حکومت اور دوسرے ذمہ دار ادارے اُردو والوں کے ہاتھوں بُری طرح بلیک میل ہو رہے ہیں۔ لاہور پنجاب کا دارالحکومت ہے پر یہ پنجاب کا مان ہے، اگر لاہور کے ادب سے پنجابی زبان اور پنجابی ثقافت کو نکال دیا جائے تو پھر پیچھے کیا بچتا ہے۔

گورنمنٹ کی طرف سے کُجھ دن پہلے اس موقعہ پر جو اشتہار شائع کیے گئے اُن میں بھی پنجابی ادبی شخصیت جس کا تعلق لاہور سے ہے، اُنہیں شامل نہیں کیا گیا۔ جب کہ لاہور کے پنجابی زبان کے سولھویں صدی کے عالمی سطح پر جانے والے شاعر شاہ حسین موجود ہیں اور اُن کی وجہ سے ہی لاہور کا نام جانا جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک اور پنجابی شخصیت جنہوں نے عوام کی بات کی اور دنیا بھر میں مشہور ہوئے وہ اُستاد دامن ہیں پر پنجاب گورنمنٹ، وفاق اور دوسرے اداروں کو اِن میں سے کوئی بھی دکھائی نہیں دیا۔کُجھ دن پہلے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ ”اب پنجاب چھوڑ بھی دو“ آج کے اجلاس میں موجود لوگ اُن کے اس بیان کی مزاحمت کرتی ہے۔

پنجابی شاعراور ادیبوں نے پنجابی سنگت پاکستان کے اس اجلاس میں شامل ہوئے جن میں کچھ نامور لکھاری یہ ہیں۔ اقبال قیصر، یوسف پنجابی، سرفراز صفی، نصیر احمد،نوید انجم، غلام محمد ساقی،عدل منہاس لاہوری، ناصر ادیب ناصر، جی۔اے نجم،مُرلی چوہان،سردارکلیم اللہ، عابد شاہ گیلانی، ڈیوڈ پرسی،عبدالحفیظ،اسلم شوق، ہیتم تنویر اکرم،مقصود خالق، افتخار بیگ مِترا،علی جوشا،افضل عاجز،افضل ساحر،نورالعین سعدیہ،ڈاکٹر شمائلہ اعظم،طاہرہ سراء، چاند شکیل، ماجد مہر، افتخار بیگ، زاہد جرپالوی،صفدر ماہی اور افتخار نواز شامل ہیں۔یاد رہے کہ قذافی اسٹیڈم کچھ وجوہات کی بنا پر بند ہونے کی وجہ سے پنجابی سنگت پاکستان کا ہفتہ وار اجلاس پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر(پلاک)کے بند ہونے کی وجہ سے ’ایس ٹی این‘ ٹی وی کے دفتر نیو گارڈن ٹاؤن لاہور ہوا۔