بہاولپور میں انڈسٹریل اسٹیٹ کا جلد آغاز کیا جائے گا:مخدوم ہاشم جواں بخت

صنعتکاروں اور کاروباری حضرات کی آسانی کے لیے کاروبار کے آغاز کی تمام سہولیات اسٹیٹ کے اندر ہی ون ونڈو سروس کی شکل میں مہیا کی جائیں گی:وزیر خزانہ پنجاب

 بہاولپور میں انڈسٹریل اسٹیٹ کا جلد آغاز کیا جائے گا:مخدوم ہاشم جواں بخت

لاہور: وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے کہا ہے کہ بہاولپور میں انڈسٹریل اسٹیٹ کا جلد آغاز کیا جائے گا۔ صنعتکاروں اور کاروباری حضرات کی آسانی کے لیے کاروبار کے آغاز کی تمام سہولیات اسٹیٹ کے اندر ہی ون ونڈو سروس کی شکل میں مہیا کی جائیں گی۔ انڈسٹریل اسٹیٹ کے ساتھ ملحقہ سڑک کو موٹر وے کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔ ہائی وے کے نزدیک اراضی پر این او سی کے حصول میں آسانی اور فیس کی معقولیت سے متعلق تحفظات بھی ترجیحی بنیادوں پردور کیے جائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ نے آج ممبر پنجاب اسمبلی افضل چوہدری کی قیادت میں بہاولپور چیمبر آف کامرس کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بہاولپور کو جنوبی پنجاب میں تعلیم اور دیگر سہولیات کا ہب تصور کیا جاتا ہے انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام خطے کو دیگراضلاع میں سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنائے گا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب زاہد زمان بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ آئندہ بہاولپور چیمبر آف کامرس کے مسائل جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں ہی حل کیے جائیں تاکہ صنعت کاروں کوسرکاری محکموں میں کاروبار سے متعلقہ معاملات کے حل کے لیے لاہور کا سفر نہ کرنا پڑے۔

وفد نے صوبائی وزیر کو بتایا کہ بہاولپور میں دیگر سہولیات کی موجودگی کے سبب نزدیکی اضلاع سے بہت سے سرمایہ دار صنعتکاری میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن این او سی کے حصول میں مشکلات اورموزوں زمین کی مناسب داموں پر عدم دستیابی مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ چیمبر کے اراکین نے صوبائی وزیر سے درخواست کی کہ پنجاب حکومت کی جانب سے انڈسٹریل اسٹیٹ کے لیے مختص احاطے کی چار دیواری اور گیٹ کی تنصیب جلد از جلد مکمل کروائی جائے تاکہ کاروبار کے آغاز کے لیے سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کیا جا سکے۔

وفد نے صوبائی وزیر کوچیمبر کے اراکین کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔ بعد ازاں وزیر خزانہ نے صوبے میں منفعت بخش ٹیکس سسٹم(Benefit Taxation)کے فروغ کے لیے قائم کردہ کمیٹی کے پہلے اجلاس کی بھی صدارت کی جسمیں سیکرٹری خزانہ عبداللہ سنبل، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن وجیہہ اللہ کنڈی، چیف ایگزیکٹو آفیسر عمر محمود، سب نیشنل گورننس پروگرام کے دوسرے فیز کے سربراہ عثمان چوہدری، ایڈوائزر پبلک فنانس مینجمنٹ سیف اللہ ڈوگراور کنسلٹنٹ علی چیمہ اور محکمہ خزانہ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں منفعت بخش ٹیکس سسٹم کے فروغ کے لیے علاقائی سطح پر میونسپل، سینیٹری اور دیگر خدمات کی فراہمی کے ذریعے عوامی اعتماد میں اضافے اور شہریوں کی رضاکارانہ طورپر ٹیکس نیٹ میں شمولیت کے لیے تجاویز پر غور کیا گیا۔ صوبائی وزیر نیشنل سب گورننس پروگرام کی ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ صوبے میں منفعت بخش ٹیکس سسٹم کے اطلاق کے لیے فریم ورک تیار کریں تاکہ نئی بلدیاتی حکومتوں کے قیام سے بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات اوروسائل کے ساتھ فرائض کے تعین کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔