برتھ رجسٹریشن، کم عمری کی شادی اور تحفظ اطفال پر میڈیا آگاہی ورکشاپ

پیدائش، شادی، طلاق اور موت کی رجسٹریشن اپنے موبائل فون سے مفت کی جا سکتی ہے بلدیہ ایپ کے ذریعے 2 لاکھ 64 ہزار بچوں کی پیدائش کا اندراج ہوچکا ہے، لیکچرز

برتھ رجسٹریشن، کم عمری کی شادی اور تحفظ اطفال پر میڈیا آگاہی ورکشاپ

لاہور:محکمہ سوشل ویلفیئر اور یونیسیف کے اشتراک سے برتھ رجسٹریشن، کم عمری کی شادی اور تحفظ اطفال کے موضوع پر میڈیا آگاہی ورکشاپ کا انعقاد سوشل ویلفیئر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں کیا گیا۔ پرنسپل سوشل ویلفیئرر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ حافظ محمد اکرم نے حقوق اطفال اور متعلقہ قوانین پر لیکچر دیا جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ فاروق کھارا نے اندراج پیدائش بالخصوص آن لائن رجسٹریشن پر بریفنگ دی۔ حافظ اکرم نے کہا کہ تحفظ حقوق اطفال یقینی بنائے بغیر معاشرتی اہداف کا حصول ممکن نہیں۔

اندراج پیدائش ایک اہم لیکن بدقسمتی سے اسے کافی نظرانداز کیا گیا۔ حکومتی اقدامات کے پیش نظر اس معاملے میں کافی بہتری آئی ہے اور اس وقت پنجاب میں شرح اندراج پیدائش 75 فیصد ہے۔ حافظ محمد اکرم نے کہا کہ کم عمری کی شادی متعلقہ جوڑے اور معاشرے دونوں پر ظلم کے مترادف ہے۔ اس رجحان کی حوصلہ شکنی وقت کی ضرورت ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ فاروق کھارا نے میڈیا ارکان کو بریفنگ میں بتایا کہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ تربیت بھی اہم ہے۔

پیدائش کے اندراج کے لئے یونیسیف کے تعاون سے مہم چلائی جا رہی ہے۔ محکمہ لوکل گورنمنٹ کی بلدیہ ایپ سے آن لائن رجسٹریشن بھی ممکن ہے۔ پیدائش، شادی، طلاق اور موت کی رجسٹریشن اپنے موبائل فون سے مفت کی جا سکتی ہے۔ اب تک بلدیہ ایپ کے ذریعے 2 لاکھ 64 ہزار بچوں کی پیدائش کا اندراج ہوچکا ہے۔ سوشل میڈیا پر آن لائن رجسٹریشن کے فوائد کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بھی اہم کردار ہے۔