’’مصنوعی سورج‘‘ نکل آیا

’’مصنوعی سورج‘‘ نکل آیا

انسان طویل عرصے سےاس کوشش میں ہے کہ وہ ایسی روشنی کا اہتمام کرلے، جس میںقدرتی سورج کی روشنی جیسی تمام صفات ہوں۔با الفاظ دیگر وہ مصنوعی سورج بنانا چاہتاہےتاکہ وہ جب اور جیسے چاہے اس سے قدرتی سورج جیسی روشنی حاصل کرسکے۔ مختلف ممالک کے سائنس داں اس ضمن میں کوششیں کرتے رہے ہیں،لیکن تاحال ان میں سے کسی کو کام یابی نصیب نہیں ہوئی ہے ۔ ایسی ہی ایک کوشش جرمنی میں بھی کی گئی۔ جرمن سائنس دانوں نے دنیا کا سب سے بڑا 'مصنو عی سورج 23 مار چ کو روشن کیا ۔انہیں توقع ہے کہ اس کی روشنی ماحول دوست ایندھن کی تیاری کے لیےاستعمال کی جاسکے گی۔یہ تجربہ جرمن شہر کولون کے مغرب میں19 میل دور واقع شہر ژیولِش میں کیا گیا ۔ یہ’ ’ سورج‘‘ 149 بڑے بڑے لیمپس (فلم پرو جیکٹراسپاٹ لائٹس)پر مشتمل ہے۔ ماہرین کے مطابق اس تجربے کا بنیادی مقصد توانائی کے نئے ماحول دوست ذرائع تلاش کرنا ہے۔اس تجربے کو Synlight کا نام دیا گیا ہے۔

 

جرمن ایرواسپیس سینٹر ڈی ایل آر کے سائنس داں اس ’’ مصنوعی سورج‘ ‘کی تیز روشنی اور حرارت کے ساتھ تجربات کرکےیہ پتا لگانا چاہتے ہیں کہ سورج سے جو بے پناہ توانائی روشنی کی صورت میں زمین تک پہنچتی ہے، اُسے کیسے زیادہ مؤثر طریقے سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔اس مقصد کے لیے 149 بڑے بڑے لیمپس استعمال کر کے زمین پر آنے والی قدرتی سورج کی روشنی سے10 ہزار گنا تیز روشنی پیدا کی گئی۔

جب تمام لیمپس نے روشنی کو ایک نقطےپر مرکوز کیا تو اْس وقت یہ آلات 3500 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ ٔحرارت پیدا کررہے تھے ۔تجربہ کرنے والے سائنس دانوں کے مطابق جب یہ مصنوعی سورج روشن کیا جاتا ہےاگراس وقت کوئی شخص تجربہ گاہ میں چلا جائے تو فوراً جل جائے گا۔

اس تحقیق سے وابستہ ماہرین کے مطابق اس تجربے کا مقصد قدرتی سورج کی روشنی کو ہائیڈروجن ایندھن کی تیاری کے لیے استعمال کرنا ہے ۔ یاد رہے کہ سولر پاور اسٹیشنزمیں شیشوں کو سورج کی روشنی، پانی کی جانب مرکوز کرنے کےلیے استعمال کیا جاتا ہے ،جس کے نتیجے میں پانی بخارات بن کر اڑتا ہے۔یہ بخارات بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔اس نئے تجربے میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ کیا اس طرح سورج کی روشنی سے پانی کو بخارات میں تبدیل کرکے ہائیڈروجن حاصل کیا جاسکتا ہے،جسے طیاروں اور گاڑیوں کے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔

قدرتی سورج بنیادی طورپر روشنی کی شکل میں توانائی فراہم کرتا ہےلیکن یہ مصنوعی سورج روشن کرنے کے لیے توانائی استعمال کرنا پڑتی ہے۔ ان تجربات میں استعمال ہونے والے لیمپس بجلی سے چلتے ہیں۔چناں چہ چار گھنٹوں کے اس تجربے میں اتنی بجلی استعمال ہوئی جتنی چار افرادپر مشتمل گھر ایک سال میں استعمال کرتا ہے،مگر سائنس دانوں کو توقع ہے کہ مستقبل میں قدرتی سورج کی روشنی کو ہائیڈروجن حاصل کرنے کے لیے کاربن نیوٹرل ذریعے سے استعمال کیا جاسکے گا۔

جرمن ماہرین کے مطابق ان تجربات کے دوران جن نکات پر توجہ مرکوز کی جائے گی، اُن میں سے ایک کا تعلق مؤثر طور پر ہائیڈروجن پیدا کرنے سے ہے، جو طیا روں کے لیے مصنوعی ایندھن تیار کرنے کی جانب پہلا قد م ہے۔ان تجربات کا مقصد پانی کے مالیکیولز کو توڑ کر آکسیجن اور ہائیڈروجن میں تقسیم کرنا ہے۔ ہائیڈروجن کو خاص طور پر مستقبل کی بہت ماحول دوست توانائی کے ذر یعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مذکورہ تجربہ خاص طورپر تیار کی گئی تجربہ گاہ میں کیا گیا۔ماہرین کے بہ قول ایسے تجربات قدرتی ماحول میں اس لیے نہیں کیے جاسکتے کہ دھوپ کی شدت مختلف مقاما ت پروقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی ہے۔اس لیے تجربہ گاہ میں یہ مصنوعی سورج تیار کیا گیاہے، تاکہ تجربات کے لیے مسلسل یک ساں شدت کی روشنی اور حرارت میسر آ سکے ۔ چناں چہ ماہرین کو اس تجربے سے زیادہ درست نتائج حاصل ہونے کی اُمید ہے۔ اسی طرح یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ پانی کےسالمے توڑ کر ہائیڈروجن حاصل کرنے کا ایسا طریقہ معلوم ہو سکے گاجو آج کل رائج طریقوں کے مقابلے میں کافی سستا ہو گا۔ اور نتائج بھی اچھے دے گا ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مصنوعی سورج کی روشنی اصل سورج کی روشنی سے ملتی جلتی ہے۔ اس میںاستعمال کیے جانے والے لیمپس کی اندرونی سطح چمک دارہے اور ان میں سے ہر ایک کا قطر ایک میٹرہے۔ان تمام لیمپس کوچودہ میٹر اونچے اور سولہ میٹر چوڑے تختے پر شہد کی مکھیوں کے چھتے جیسی شش پہلو شکل میں نصب کیا گیا ہے ۔ان کی روشنی ایک نقطے پر مرکوز کرنے سے اتنی زیادہ روشنی حاصل ہوتی ہے جو دس ہزار سورجوں کی روشنی جتنی تیز ہوتی ہے۔ اس مصنوعی سورج سے دیواروں پر پڑنے والی بالواسطہ روشنی کی حِدّت بھی اتنی شدید ہے کہ انسان اُسے محض ایک سیکنڈ تک ہی برداشت کر سکتا ہے۔