پرنس ویلیم اور کیٹ مڈلٹن نے شاہی روایت توڑنے کا ارادہ کر لیا

شاہی اصولوں کے مطابق شاہی خاندان کے بچوں کو 8 سال سے 13 سال کی عمر تک بورڈنگ اسکول میں تعلیم حاصل کرنی ہوتی ہے

پرنس ویلیم اور کیٹ مڈلٹن نے شاہی روایت توڑنے کا ارادہ کر لیا

برطانوی شاہی خاندان کے ڈچس آف کیمبرج پرنس ویلیم اور کیٹ مڈلٹن نے اپنے بچے شہزادہ جارج کی خوشی کے لیے شاہی روایت توڑنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ شاہی اصولوں کے مطابق شاہی خاندان کے بچوں کو 8 سال سے 13 سال کی عمر تک بورڈنگ اسکول میں تعلیم حاصل کرنی ہوتی ہے، پرنس ہیری اور ویلیم نے بھی 8 سال کی عمر سے لے کر 13 سال تک بورڈنگ اسکول ’لڈگروو اسکول‘ میں تعلیم حاصل کی تھی، ہیری اور ویلیم کی والدہ پرنسس لیڈی ڈیانا ہفتہ وار اُن سے ملنے جایا کرتی تھیں۔

شاہی سوانح نگار انگریڈ سیورڈ کے مطابق کیٹ اور ویلیم کا بڑا بیٹا رواں ماہ 22 جولائی کو 7 سال کا ہو جائے گا، کیٹ اور ویلیم شاہی خاندان کی یہ روایت توڑنے اور اپنے بیٹے شہزادہ جارج کو لندن کے پرائیوٹ اسکول ’ تھامس بیٹرسی ‘ میں ہی تعلیم دلوانے کے خواہش مند نظر آ تے ہیں ۔ شاہی سوانح نگار انگریڈ سیورڈ کے مطابق شاہی خاندان کی جانب سے منتخب بورڈنگ اسکول طالب علموں کے لیے بہت اچھا اسکول ہے اور جارج کے لیے بھی بہتر ثابت ہو سکتا ہے،  شہزادہ جارج اپنے والد کی طرح بورڈنگ اسکول سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایٹون کالج میں اپنی سیکنڈری ایکجوکیشن حاصل کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں ۔

شاہی سوانح نگار انگریڈ سیورڈ کی جانب سے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ ہو سکتا ہے شاہی خاندان کو اس معاملے سے متعلق سوچنا پڑے گا اور اُن کے پاس ابھی بہت وقت ہے اس لیے کوئی جلدی نہیں ہے۔

انگریڈ سیورڈ کی جانب سے مزید کہا جا رہا ہے کہ جہاں تک بات ہے ڈیوک اینڈ ڈچس آف کیمبرج ویلیم اور کیٹ کی تو وہ شاید اپنے بچوں کے لیے اس شاہی روایت کو چھوڑ دیں گے ۔ کیٹ اور ویلیم بہت سمجھدار والدین ہیں اور وہ اس معاملے سے متعلق بہت سوچ بچار کے بعد ہی فیصلہ کریں گے، کیٹ اور ویلیم اپنے بچوں کی شخصیت سے متعلق مزید جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کس قسم کی سوچ رکھتے ہیں، کیٹ اور ویلیم  دونوں اس بات پر فیصلہ کریں گے کہ اُن کے بچے گھر سے دور رہنا چاہتے ہیں یا نہیں، جیسا کے ویلیم اپنے بچپن میں ذہنی الجھنوں سے گزر چکے ہیں اس لیے اُن کی نظر میں بچوں کی ذہنی صحت بہت معنی رکھتی ہے ۔ انگریڈ سیورڈ کے مطابق ویلیم اور کیٹ اس بات پر اتفاق کریں گے کہ اگر اُن کے بچے موجودہ اسکول میں خوش ہیں تو اُن کا اسکول کیوں تبدیل کیا جائے۔