حکومت آئندہ نسلوں کو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے ماحول دوست روڈ میپ وضع کر رہی ہے، وزیراعظم کا ای بائیک کی افتتاحی تقریب سے خطاب

حکومت آئندہ نسلوں کو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے ماحول دوست روڈ میپ وضع کر رہی ہے، وزیراعظم کا ای بائیک کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد :وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت طویل مدتی منصوبے کے تحت آئندہ نسلوں کو موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت میں اضافے کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے ماحول دوست روڈ میپ وضع کرنے پر کام کر رہی ہے،

اس ضمن میں ماحول دوست الیکٹرک موٹرسائیکل (ای بائیک )کا منصوبہ خوش آئندہے جو کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کے سلسلے میں حکومت کی الیکٹرک وہیکلز پالیسی کا اہم جزو ہے ،ہم ملک کو ایک نئی سمت دیں گے اور آنے والی نسلوں کے بارے میں سوچیں گے ،ماحولیات کے شعبہ کی بہتری اور گلوبل وارمنگ کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کو پہلی دفعہ عالمی برادری تسلیم کررہی ہے،اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے،موجودہ حکومت ان وسائل کے بہتر استعمال کی منصوبہ بندی کر رہی ۔

وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہارجمعرات کو یہاں پاکستان کی پہلی ماحول دوست الیکٹرک موٹرسائیکل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ قدم مستقبل کی سوچ کے تحت اٹھایا گیا ہے ، جو الیکٹرک وہیکلز پالیسی کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کا حصہ ہے اور اس پالیسی کے تحت ایک مضبوط الیکٹرک وہیکل کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس کے تحت آٹو موبائل کی صنعت کی مرحلہ وار منتقلی کی جائے گی اور الیکٹرک وہیکلز مینوفیکچررز کو مراعات بھی دی جارہی ہیں،

اس ماحول دوست پالیسی سے ملک میں ہوا، پانی اور شہروں کو صاف رکھنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر حماد اظہر اور خسرو بختیار کو الیکٹرک وہیکلز پالیسی مرتب کرنے پر بھی مبارکباد دی کہ انہوں نے یہ پالیسی مرتب کرکے ملک کے مستقبل کی سمت کا تعین کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج تک جتنے ممالک نے ترقی کی ہے انہوں نے ہمیشہ مستقبل کا سوچا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ چین کی ترقی کے پیچھے 10 ،20 اور 30 سال کی طویل منصوبہ بندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طویل مدتی پالیسی اختیار نہ کی جائے تو ملک میں الیکشن ٹو الیکشن فیصلے ہوتے ہیں جس سے مافیاز فائدہ اٹھا کراپنے مفاد میں فیصلے کرتے ہیں اور ملک ترقی نہیں کرتا۔

انہوں نے حضور نبی کریم ۖ ﷺکے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”ہمیں آئندہ زندگی کے لئے ایسے جینا چاہئے کہ ہم نے کل ہی چلے جانا ہے لیکن دنیا میں رہنے کے لئے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے”۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان وہ ملک ہے جہاں پر جنگلات کا زیر کاشت رقبہ بہت کم ہے، ہم نے انگریز وں کے دور میں لگائے ہوئے جنگلات بھی تباہ کردیئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بلین ٹری منصوبے کے تحت نئے درخت لگا رہی ہے ، نیشنل پارکس بنائے جارہے ہیں، شہروں کے ماسٹرز پلانز بنائے جارہے ہیں تاکہ شہری آبادیوں کے بے ہنگم اضافہ کو روکا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 سال کے دوران اسلام آباد کی آبادی تیزی سے بڑھی ہے لیکن اس کے لئے مناسب منصوبہ بندی نہیں تھی لیکن ہم باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت شہر کے انتظامات کو بہتر بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافہ اور منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے اسلام آباد میں آلودگی بڑھی ہے جبکہ لاہور اور پشاور سمیت کراچی میں بھی ماحولیات کے مسائل کا سامنا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آلودگی میں اضافے کے باعث لاہور میں رہنے والے شہری کی زندگی اوسطاً 11سال کم ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز پالیسی سے شہری آلودگی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ شہروں میں موٹر سائیکلز کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے اور الیکٹرک موٹرسائیکل سے آلودگی میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت الیکٹرک وہیکلز پالیسی کو مزید بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرے گی تاکہ آلودگی اور ماحولیات کے مسائل کو کم کیا جا سکے ۔ انہوں نے وفاقی وزرا حماد اظہر اور مخدوم خسرو بختیار کو الیکٹرک وہیکلز کی پالیسی کے حوالے سے اقدامات پر مبارکباد پیش کی ۔

وزیر اعظم نے ڈاکٹر امجد کو الیکٹرک موٹر سائیکل متعارف کروانے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مستقبل کی سوچ کے تحت یہ قدم اٹھایا ہے جو خوش آئند ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی ٹیم نے الیکٹرک وہیکلز کی پالیسی مرتب کرکے ملک کا مستقبل کا پلان دیا ہے کہ حکومت کی سمت کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے لیکن ہم نے ان نعمتوں سے استفادہ نہ کیا اور ہر چیز باہر سے درآمد کرنے کا آسان راستہ منتخب کرلیا جس سے یہ نقصان ہوا کہ ہم اپنے خام مال کو استعمال نہ کرسکے اور ملک غریب ہوتا گیا۔انہوں نے کہا کہ درآمدات میں اضافہ سے ادائیگیوں کا توازن متاثر ہوتا ہے اور ملک کے تجارتی خسارہ میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

اگر برآمدات میں اضافہ سے زیادہ ڈالر ملک میں آئیں تو ملک امیر ہوگا جبکہ اس کے برعکس درآمدات بڑھنے سے ملک غریب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ چین نے برآمدات کے فروغ کی پالیسی سے زیادہ سے زیادہ ڈالر کمائے اور آج دنیا کی ایک بڑی معاشی قوت بن گیا ہے۔اسی طرح دیکھتے ہی دیکھتے سنگاپور نے بھی ترقی کی منازل طے کیں ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں ہماری برآمدات بڑھ کر 26 ریکارڈ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں لیکن دوسری جانب ایک چھوٹا سا ملک سنگا پور ہے جس کی برآمدات 300 ارب ڈالر ہیں۔ سنگا پور میں یہ سب منصوبہ بندی کے تحت حاصل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معدنیات کی فراوانی ہے، ہمارے پاس سب کچھ ہے، ہمارا ملک بڑا امیر ہے اور ہمیں درآمدات کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس کے لئے ہمیں اپنے وسائل سے استفادہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ درآمدات سے ملک کو نقصان ہوتا ہے۔ادائیگیوں کے سلسلہ میں روپے پر بوجھ پڑنے سے اس کی قدر کم ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں مہنگائی اور غربت بڑھنے کے ساتھ ساتھ ملک غریب ہوتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم ملک کو ایک نئی سمت دیں گے اور آنے والی نسلوں کے بارے میں سوچیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیات کے شعبہ کی بہتری اور گلوبل وارمنگ کے حوالے سے کئے گئے پاکستان کے اقدامات کو پہلی دفعہ عالمی برادری تسلیم کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ملک کی دولت میں اضافہ کے لئے پائیدار معاشی ترقی پر خصوصی توجہ دیں گے کیونکہ اگر ملک کو کرنٹ اکائونٹ خسارہ ہو تو پھر قرضے لینے پڑتے ہیں اس لئے ڈالرز کی کمی پر قابو پانے کے لئے ہم تمام تر ممکنہ اقدامات کریں گے۔ملک کے وسائل سے استفادہ کو یقینی بنائیں گے اور برآمدات میں اضافہ پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں جب بھی کوئی مشکل وقت آیا تو ہماری عوام نے فراخدلی کا مظاہرہ کیا۔ مجھے عوام پر بھرپور اعتماد ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کے اعتماد کی بحالی سے ٹیکسز کی وصولیاں بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بچت کی پالیسی سے وسائل کی بچت اور عوام کے اعتماد میں اضافہ کے لئے اقدامات کررہی ہے اور ہماری حکومت نے ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس کے اخراجات میں 108 کروڑ روپے سے زیادہ کی کمی کو ممکن بنایا ہے تاکہ عوام سے لئے گئے ٹیکس کے پیسے کو عوام پر خرچ کیا جاسکےجس سے عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور ٹیکسز سے آمدنی بڑھے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں سربراہان مملکت کے غیر ملکی دورے اس وقت کامیاب تصور کئے جاتے تھے جب قرض ملتا تھا لیکن ہمیں اس طرح کی ذہنی غلامی کو ختم کرنا ہوگا۔

ملک کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہوگا اور ان شاء اللہ آنے والے سالوں میں پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا۔قبل ازیں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خسرو بختیار نے کہا کہ جس لیڈر کو ملک کا درد ہوتا ہے ہو وہی الیکشن سے آگے کا سوچتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی مستقبل کی سوچ پر بخوبی عمل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان کی معیشت پائیدار اور مستحکم ہوئی ہے اور پاکستان دنیا میں بہتر مقام حاصل کرے گا.