’نشے کی خاطر اس مینڈک کو چاٹنا بند کیجیے،‘ ماہرین

’نشے کی خاطر اس مینڈک کو چاٹنا بند کیجیے،‘ ماہرین

بولڈرسٹی، امریکہ:: امریکا میں مہم جو حضرات ایک مینڈک کو چاٹ کر اس سے مسرت حاصل کر رہے ہیں اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل سے وہ شدید بیمار ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ امریکا کے کئی پارکوں میں پائے جانے والے سونورین ریگستان میں عام پائے جانے والے ایک بڑے مینڈک کو چاٹنے بلکہ چھونے سے بھی گریز کریں کیونکہ اس صورت میں وہ شدید بیمار ہوسکتے ہیں۔

اسے کولاراڈو دریا کا مینڈک بھی کہا جاتا ہے جو سات انچ تک بڑا ہوسکتا ہے اور ہلکی سی آواز خارج کرتا ہے۔ رات کی تاریکی میں اس کی آنکھیں چمکتی ہے۔ اس کی جلد سے ایک خاص قسم کا زہر خارج ہوتا ہے۔ تاہم یہ کسی بھی طرح خطرے سے خالی نہیں کیونکہ اسے چاٹنے اور چھونے کی صورت میں شدید مرض لاحق ہوسکتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ بار بار منع کرنے کے باوجود اس بڑے مینڈک کو لوگ چاٹ رہے ہیں کیونکہ اس میں غنودگی کی وجہ بننے والا ایک طاقتور کیمیکل پایا جاتا ہے جس کا نام 5-MeO-DMT ہے جسے زبان پر رکھنے سے سرور حاصل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ عمل تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔

دوسری جانب کئی علاقوں میں ادویہ سازی کے لیے بھی اس مینڈک کو استعمال کیا جاتا ہے جس سے بقا کو خطرات لاحق ہیں۔ یہاں تک مائیک ٹائسن نے بھی اس سے اخذکردہ نشہ آور زہر کا ذکر کیا ہے۔ تاہم اس سے علاج کی راہیں بھی ہموار ہوسکتی ہیں۔