میاں اسلم اقبال کی جانب کھلی کچہری کا انعقاد،لوگوں کے مسائل سنیں بعض کے حل کے لئے موقع پر ہی احکامات جاری کئے

کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عوام اور عوامی نمائندوں کے درمیان رابطوں کے فقدان کو ختم کرنا ہے،عوام کے مسائل فوری حل ہوتے ہیں  ماضی میں ایک شعبدہ باز لانگ بوٹ اورٹیڑھے ہیٹ پہن کر بارش کے پانی میں کھڑے ہوکر تصویریں بنانے کا شوق پورا کرتا تھا اب ایسا نہیں ہے،ہمیں عوام کی مشکلات کا احساس ہے اور بارشوں کے پانی کے نکاس کے لئے بہترین انتظامات کئے گئے  مہنگائی کے مسئلہ پر قابو پانے کے لئے پرائس کنٹرول اتھارٹی بنائی جارہی ہے،اتھارٹی میں معیشت وزراعت کے ماہرین،انتظامیہ اور عام آدمی کی نمائندگی ہوگی

 میاں اسلم اقبال کی جانب کھلی کچہری کا انعقاد،لوگوں کے مسائل سنیں بعض کے حل کے لئے موقع پر ہی احکامات جاری کئے

لاہور: صوبائی وزیر صنعت وتجارت میاں اسلم اقبال نے آج اسلامیہ پارک سمن آباد میں کھلی کچہری کا انعقاد کیااور  لوگوں کی شکایات سنیں،بعض مسائل کے حل کے لئے موقع پر ہی احکامات جاری کئے۔لوگوں کی زیادہ رتر شکایات لیسکو،سوئی گیس،واسا،پولیس اور سماجی خدمات فراہم کرنے والے اداروں سے متعلقہ تھیں۔صوبائی وزیر صنعت وتجارت میاں اسلم اقبال نے کھلی کچہری کے دوران سائلین اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عوام اور عوامی نمائندوں کے درمیان رابطوں کے فقدان کو ختم کرنا ہے اس لئے کچہریوں کے ذریعے عوام کی شکایات کا فوری ازالہ ہوتاہے۔ لہٰذا   کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

وزیر صنعت وتجارت نے کہا کہ ماضی میں میٹرو کے چند منصوبے لگانے والوں نے عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ نہ دی۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے صوبہ بھر میں عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے منصوبوں کا جال بچھادیا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ مہنگائی کے مسئلہ پر قابو پانے کے لئے پرائس کنٹرول اتھارٹی بنائی جارہی ہے،اس کا بل جلد اسمبلی میں لایا جائے گا۔ اس اتھارٹی میں ماہرین معاشیات،زراعت،انتظامیہ اور عام آدمی کی بھی نمائندگی ہوگی۔طلب اور رسد کے نظام کے تحت اشیاء ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول کامیکنزم بنایاجائے گا۔پنجاب کا پرائس کنٹرول کا سٹرکچردوسروں صوبوں سے کہیں بہتر ہے اور پنجاب بھر میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 860 روپے میں مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران اشیاء ضروریہ کی سرکاری قیمتوں کی خلاف ورزی پر اربوں روپے کے جرمانے کئے گئے ہیں۔میاں اسلم اقبال نے کہا کہ ماضی میں ایک شعبدہ باز لانگ بوٹ اورٹیڑھے ہیٹ پہن کر بارش کے پانی میں کھڑے ہوکر تصویریں بنانے کا شوق پورا کرتا تھا۔اب ایسا نہیں ہے کیونکہ ہماری حکومت نے بہترین انتظامات کیے ہیں اورہمیں عوام کی مشکلات کا احساس ہے۔ صوبائی وزیرنے کہا کہ دوسری طرف سندھ میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں ہوا۔برسوں سندھ پرحکومت کرنے والی سیاسی جماعت نے شہر کراچی اور دیگر علاقوں کے لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ افسران کی کارکردگی کی مانیٹرنگ کی جاری ہے،ناقص کارکردگی کے حامل افسران کا عہدوں پر رہنا جائز نہیں۔جس طرح وزراء اپنی کارکردگی کے حوالے سے جواب دہ ہیں اسطرح افسران بھی جواب دہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملاوٹ کی روک تھام کے حوالے سے پنجا ب فوڈ اتھارٹی شاندار کام کررہی ہے،جس وجہ سے ملاوٹ کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کورونا ابھی ختم نہیں ہوا،عوام احتیاطی تدابیر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔اپنے بچوں اور اپنےپیاروں کی حفاظت کے لئے ماسک پہنیں اور ایس او پیز پر عمل کریں۔نواز شریف کی واپسی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ کچھ کا علاج لندن میں ہورہا ہے اور کچھ کا پاکستان میں سب کچھ عوام دیکھ رہے ہیں۔