صوبائی وزیرلٹریسی راجہ راشد حفیظ کی صدارت مشاورتی اجلاس کا انعقاد

موجودہ حکومت نے تاریخ میں پہلی خواندگی وغیررسمی تعلیمی پالیسی پنجاب 2019متعارف کروائی۔محکمہ کی شفافیت اور بہتر کار کردگی کو یقینی بنانے کے لیے چھ پراجیکٹس کی تھرڈ پارٹی ایویلیوایشن مکمل کی گئی

صوبائی وزیرلٹریسی راجہ راشد حفیظ کی صدارت مشاورتی اجلاس کا انعقاد

لاہور : صوبائی وزیرلٹریسی راجہ راشد حفیظ کی صدارت میں عالمی یوم خواندگی کے موقع پر چلڈرن لائبریری کمپلکس میں محکمہ خواندگی کے زیر اہتمام مشاورتی اجلاس کا انعقادکیا گیااس موقع پر سیکرٹری لٹریسی سمیرا صمد،پرویز اقبال بٹ (ڈی جی اسپیشل ایجوکیشن)، سید جاوید اقبال (سیکرٹری ا سپیثل ایجوکیشن)، قیصر رشید (ایڈیشنل سیکرٹری (بجٹ اینڈ پلاننگ)، شاہین عتیق الرحمن (بنیاد فاؤنڈیشن)، کاظم بشارت (صدر الف لیلیٰ)، سونیا جاوید (آئی ٹی اے)، کامران افتخار (الائٹ پاکستان)، ڈاکٹر اللہ بخش ملک، سجاد حیدر (JICA)  موجود تھے۔اجلاس میں COVID-19کے دوران خواندگی کی تدریس،سیکھنے کا عمل،اساتذہ کا کرداراور درس و تدریس کی تبدیلیاں شامل تھیں۔

وزیر لٹریسی راجہ راشد حفیظ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے تاریخ میں پہلی خواندگی وغیررسمی تعلیمی پالیسی پنجاب 2019متعارف کروائی۔محکمہ کی شفافیت اور بہتر کار کردگی کو یقینی بنانے کے لیے چھ پراجیکٹس کی تھرڈ پارٹی ایویلیوایشن مکمل کی گئی۔ راشد حفیظ کا کہنا تھا ک محکمہ کی گورننس اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے ڈائریکٹوریٹ آف لیٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن کی تشکیل عمل میں لائی گئی اور 1007آسامیوں کی منظوری کروالی گئی ہے۔وزیر لٹریسی پنجاب نے مزید کہا کہ چھ جاری ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کیا گیا اور نئے مالی سال 2020-21کے لئے علم و ہنر پراجیکٹ کی اسکیم تشکیل دے دی گئی ہے۔داخلہ مہم 19-2018اور 20-2019کے تحت  اسکول سے باہر 51،218پسماندہ علاقوں کے  اسکولوں سے باہر  بچوں کو غیر رسمی اسکولوں میں داخل کیاگیا۔

صوبائی وزیر راشد حفیظ نے کہا کہ 12,441 بچوں کے لیے مزید 377بھٹوں) Brick Kilns) پر نئیسکول قائم کیے گئے۔وزیر لٹریسی خواندگی وغیررسمی بنیادی تعلیم فراہم کرنے لیے 869مدارس اور مساجد میں تعلیمی  مراکز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جن میں 29,000 سے زائد بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ راشد حفیظ نے کہا کہ8725  قیدیوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لیے محکمہ جیل خانہ جات کے تعاون سے 469غیررسمی  تعلیمی اور خواندگی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔28خواند گی مراکز دارالامان میں قائم کیے گئے جن میں 437طالبات  زیر تعلیم رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی تعلیم و خواندگی کے 6مراکز خواجہ سراؤں اور 14مراکز خانہ بدوش بچوں کے لیے قائم کیے گئے،جن میں 97 سے زائد خواجہ سرا اور 224سے زائد خانہ بدوش بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کی گئیں۔گلوبل پارٹنر شپ فار ایجوکیشن (GPE)کے تحت جنوبی پنجاب میں 1000غیر رسمی ا سکول کھولنے کی منظوری ہو چکی ہے۔پنجاب ایگزامینیشن کمیشن (PEC)کے تحت 29,620بچوں نے پرائمری کا امتحان پاس کیا۔ٹرانسپورٹ سے منسلک افراد کے لیے بھی خواندگی مراکز قائم کیے گئے۔پنجاب بھر میں 13,131سکول مینجمنٹ کمیٹیاں تشکیل دی گئی۔

غیر رسمی تعلیمی اداروں کے 13,519اساتذہ کی اجتماعی پیشہ وارنہ تربیت  کا اہتمام کیا گیا اور 4,944نئے اساتذہ کی بھی  پیشہ وارنہ تربیت کروائی گئی۔صوبا?ی وزیر کہا کہنا تھاپنجاب کے چھ اضلاع میں Early Childhood Education(ECE) اور  اسکول مینجمنٹ کیلئے 480اساتذہ کو تربیت دی گئی۔8تا 16 سال عمر کے سکول سے باہر بچوں کے لیے Accelerated learning Program (ALP) پروگرام تشکیل دیا گیا جس کے تحت  32ماہ میں پرائمری  تک تعلیم دی جائے گی۔

راشد حفیظ نے کہا کہ عالمی وباء کرونا کو مدنظر رکھتے ہوئے سکولوں کو محفوظ طریقے سے دوبارہ کھولنے کے لیے SOPs اورs Post-Covid Learning Plan تیار کییگئے ہیں۔موجودہ حکومت کی پالیسی کے تحت محکمہ سے متعلق معلومات /شکایات کے ازالہ کے لیے چٹ اور پرچی سسٹم سے نجات حاصل کر لی گئی ہے۔ راجہ راشد حفیظ نے کہا کہ دفتری اہلکاران اور افسران کو بائیومیٹرک مشین کے ذریعے سے  دفتری اوقات کے سلسلے میں پابند کر دیا گیا ہے۔

سیکرٹری لٹریسی سمیرا صمد نے اجلاس کو اپنی بریفنگ میں بتایا کہ حکومتی اور نجی شراکت داری کی طرف راغب کرنے کے لیے متعدد بین الاقوامی ایجنسیوں اور قومی سطح کی غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ متعدد  میٹینگز کی گئی  ہیں اور یونیسف کے تعاون سے پنجاب کے چھ اضلاع میں 240 غیر رسمی تعلیمی ادارے قائم اور فعال کیے گئے ہیں جن میں 7ہزار سے زائد بچے تعلیمی سہولیات حاصل کر رہے ہیں۔