سینٹر فار ھیومن رائٹس ایجوکیشن پاکستان اور رواداری تحریک کے زیر اہتمام ہیومن رائٹس فورم کا انعقاد

 صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین کی بطور مہمان خصوصی شرکت فورم میں ایم پی اے سعدیہ سہیل،چیئرمین رواداری تحریک سیمسن سلامت اور دیگر کی بھی شرکت  فورم میں معاشرے میں پسے ہوئے طبقات کے مسائل کو اجاگر کیا گیا

سینٹر فار ھیومن رائٹس ایجوکیشن پاکستان اور رواداری تحریک کے زیر اہتمام ہیومن رائٹس فورم کا انعقاد

لاہور : سینٹر فار ہیومن رائٹس ایجو کیشن پاکستان اور رواداری تحریک کے زیر اہتمام دارالمسرت ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، لاہور میں ہیومن رائٹس فورم اکا انعقاد کیا گیا۔ فورم میں پاکستان کے تمام صوبوں سے آئے ہوئے انسانی حقوق پر کام کرنیوالے افراد نے معاشرے میں پسے ہوئے بالخصوص مذہبی اقلیتوںسے وابستہ افراد کے مسائل کو اجاگر کیا جبکہ سینٹری ورکرز ،بھٹہ مزدوروں،مذہبی اقلیتوں،خواجہ سراﺅں اور خانہ بدوش خاندانوں کے مسائل کو خصوصی اہمیت دی گئی۔

فورم میں صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین میں بطورمہمان خصوصی جبکہ ایم پی اے سعدیہ سہیل، چیئرمین رواداری تحریک سیمسن سلامت، بیرسٹر عامر حسن، سابق ایم پی اے میری گیل، شازیہ خان اور سماجی بہبود کے اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ فورم میں چاروں صوبوں سے آئے ہوئے طلباءکی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی جبکہ اس سے قبل انکو صوبائی محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور کا تفصیلی دورہ کروایا گیا جدھر ڈپٹی ڈائریکٹر محمد یوسف نے طلباءکو محکمانہ امور پر بریفنگ دی۔ استقبالیہ خطبہ میں چیئرمین راواداری تحریک سیمسن سلامت نے معاشرے کے محروم طبقات کے حقوق کی طرف بین الاقوامی اور مقامی برادری کی توجہ مبذول کروائی۔

صوبائی وزیر اعجاز عالم آگسٹین نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لئے تمام متعلقہ محکموں کے تعاون کی ضرورت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے نصاب اور درسی کتاب بورڈ میں مذہبی اقلیتی ممبران کی شمولیت درحقیقت مساوی شہریت کو فروغ دینے کے لئے ایک اہم اقدام ثابت ہوگا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو ملک کے غریب اور مستحق افراد سے گہری ہمدردی ہے جبکہ کورونا وائرس کے پیش نظر، مذہبی اقلیتی برادری کو بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔

ایم پی اے سعدیہ سہیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ مذہبی اقلیتی برادری ملک کی ترقی میں دیگر شہریوں کے ساتھ یکساں کردار ادا کررہی ہے جبکہ حکومت وقت عوامی مفاد میں بہترین فیصلے کر رہی ہے تاہم، ہیومن رائٹس فورم جیسے اقدامات قابل تعریف ہیں کیونکہ اس فورم میں ممبران پنجاب اسمبلی، حکمران اور حزب اختلاف کی دونوں جماعتوں نے مشترکہ طور پر مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے مسائل کو اجاگر کیا اور مختلف حل پیش کیئے ہیں۔

تمام شرکاءنے بھارتی فورسز کیجانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی بھی شدید مذمت کی۔شرکاءنے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کو فی الفور روکنے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہندوستانی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کو بحال کرنے کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو کو فوری طور پر ختم کریں اور مواصلات کے تمام ذرائع کو بحال کیا جائے ۔ سیمسن سلامت نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے تشدد اوردہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔