قوانین پر عمل درآمد کا فقدان عورتوں کے خلاف جرائم کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے

ملک میں قونین موجود ہیں مگر عمل درآمد کی صورت حال مایوس کن ہے، معاشرتی رویوں میں تبدیلی نا گزیر ہے، مقررین

قوانین پر عمل درآمد کا فقدان عورتوں کے خلاف جرائم کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے
قوانین پر عمل درآمد کا فقدان عورتوں کے خلاف جرائم کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے
قوانین پر عمل درآمد کا فقدان عورتوں کے خلاف جرائم کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے
قوانین پر عمل درآمد کا فقدان عورتوں کے خلاف جرائم کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے
قوانین پر عمل درآمد کا فقدان عورتوں کے خلاف جرائم کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے
1
1
1
1
1

اسلام آباد : پاکستان میں عورتوں کے خلاف جرائم اور عورتوں کو قتل کیے جانے کے رجحان کی روک تھام کے لیے قوانین پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ ملک میں اس حوالے سے قوانین موجود ہیں لیکن عمل درآمد کا فقدان مسائل کی اصل جڑ ہے۔مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مقررین نے اس امر کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام  ’پاکستان میں عورتوں کے خلاف جرائم‘  کے موضوع پر منعقدہ  ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

قومی کمیشن برائے حقوق نسواں (این سی ایس ڈبلیو) کی سابق سربراہ خاور ممتاز نے کہا کہ دنیا میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں عورتوں کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور ایشیائی ممالک میں یہ شرح سب سے بلند ہے۔انہوں نے کہا کہ ان جرائم میں اکثر متاثرہ عورتوں کے قریبی عزیز و اقارب ملوث ہوتے ہیں۔  انہوں نے زور دیا کہ اس صورت حال میں بہتری لانے کے لیے پاکستان میں قوانین پر موثر عمل درآمد کی ضرورت ہے کیونکہ اس حوالے سے قوانین پہلے ہی موجود ہیں۔ 

آئی جی موٹروے  و ہائی وے پولیس ڈاکٹر سید کلیم امام نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بدقستمی سے عالمی صنفی انڈیکس پر ہم انتہائی نچلی درجہ بندی میں آتے ہیں اور یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم عورتوں کے خلاف جرائم کی وجوہات کا ہر سطح پر تدارک کریں۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بعض اچھے اقدامات ضرور کیے ہیں مگر عورتوں کے خلاف جرائم کے معاملات میں سزا کو یقینی بنانے کے لیے بہتر فرانزک سہولتوں کے علاوہ متعقلہ اہلکاروں کا تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے۔ 

ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے اپنی گفتگو میں کہا کہ دنیا کے تمام ممالک صنفی برابری کے لیے اقدامات کرنے کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عورتوں کے خلاف تشدد اور جرائم کو گھریلو معاملہ قرار دینے یا متاثرہ خواتین کو مورد الزام ٹھہرانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ صنفی امور پر تحقیق کار زویا رحمان نے بھی موضوع کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے عورتوں کے خلاف جرائم کی روک تھام پر زور دیا۔