الیکٹرانک ووٹنگ مشین انتخابات میں شفافیت کا بہترین ذریعہ ہے، حکومت اور اپوزیشن کے مابین اتفاق رائے ہو گیا تو آئندہ انتخابات ای وی ایم پر کرائے جا سکتے ہیں، وفاقی وزیراطلاعات چوہدری فواد حسین کا ڈیجیٹل میڈیا ونگ کو انٹرویو

الیکٹرانک ووٹنگ مشین انتخابات میں شفافیت کا بہترین ذریعہ ہے، حکومت اور اپوزیشن کے مابین اتفاق رائے ہو گیا تو آئندہ انتخابات ای وی ایم پر کرائے جا سکتے ہیں، وفاقی وزیراطلاعات چوہدری فواد حسین کا ڈیجیٹل میڈیا ونگ کو انٹرویو

اسلام آباد :وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین انتخابات میں شفافیت کا بہترین ذریعہ ہے، انتخابات میں شفافیت کے حوالے سے میکنزم تیار کرنا ہوگا، ای وی ایم الیکشن کمیشن کی تمام شرائط پورا کرتی ہیں، ٹیکنالوجی کے حوالے سے تمام کام مکمل ہے، حکومت اور اپوزیشن کے مابین اتفاق رائے ہو گیا تو آئندہ انتخابات ای وی ایم پر کرائے جا سکتے ہیں۔ ای وی ایم کے استعمال سے دھاندلی کے امکانات کم ہوں گے، انتخابی نتائج فوری دستیاب ہوں گے، اس میں الیکٹرانک ٹریل کے ساتھ پیپر ٹریل بھی دستیاب ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر ہمارا زور اس لئے ہے کہ یہ انٹرنیٹ کے ساتھ منسلک نہیں ہیں، یہ مشین موجودہ پیپر بیسڈ نظام سے ایک قدم آگے ہے، اس میں الیکٹرانک ٹریل کے ساتھ پیپر ٹریل بھی دستیاب ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر انتخابات کے دوران ووٹنگ پانچ بجے ختم ہو جاتی ہے اور ہمیں نتائج کے انتظار کے لئے صبح تک انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کے استعمال سے انتخابی نتائج فوری دستیاب ہوں گے اور دھاندلی کے امکانات بھی کم ہوں گے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں حکومت ن لیگ کی تھی، آزاد کشمیر کے وزیراعظم ن لیگ کے تھے، الیکشن کمیشن کے سینئر ممبر بھی آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے ہم زلف تھے، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری بھی آزاد کشمیر حکومت نے خود کی جبکہ پولیس اور انتظامیہ بھی ان کے تابع تھی لیکن جب ن لیگ کو الیکشن میں شکست ہوئی تو انہوں نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آخر ایسا کونسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ ان کے الزامات دور کئے جا سکیں۔ اگر وہ الیکشن ہارتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی اور جیت جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انتخابات ٹھیک ہوئے ہیں، اس حوالے سے ایک میکنزم تیار کرنا ہوگا جس سے انتخابات کی شفافیت پر سوال نہ اٹھایا جا سکے۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وزیراعظم اور پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ انتخابات میں شفافیت کے لئے ٹیکنالوجی کی طرف بڑھا جائے، ٹیکنالوجی کے استعمال سے انتخابات میں فرسٹ ورلڈ کی طرز پر شفافیت آئے گی۔ انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال کیلئے الیکشن کمیشن کی شرائط کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 36 شرائط سامنے رکھیں اور کہا کہ اگر کوئی مشین ان 36 شرائط کو پورا کرتی ہیں تو وہ الیکشن میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم جو نئی ٹیکنالوجی لائے ہے، وہ الیکشن کمیشن کی تمام شرائط کو پورا کرتی ہے۔ اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز میں الیکشن کمیشن اور اپوزیشن جماعتیں شامل ہیں۔ یہ مشینیں الیکشن کمیشن کی تمام شرائط کو پورا کر رہی ہیں جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے تو انہوں نے ابھی تک یہ ٹیکنالوجی دیکھی ہی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پہلے ان مشینوں کو دیکھے پھر اپنا فیصلہ کرے۔ ایک اور سوال کے جواب میں چوہدری فواد حسین نے بتایا کہ اس وقت انتخابی اصلاحات میں تین طرح کی ٹیکنالوجیز پر بات ہو رہی ہے جن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین، انٹرنیٹ ووٹنگ اور بائیو میٹرک شامل ہیں، یہ تینوں اکٹھی نہیں ہیں۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت پانچ کمپنیاں ای وی ایم تیار کر رہی ہیں جو الیکشن کمیشن کی شرائط پر پورا اترتی ہیں۔ اب قیمت طے کرنے کا معاملہ ہے، ٹیکنالوجی کے حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے قانونی شرائط کے دو حصے ہیں، ایک حصہ الیکشن کمیشن کو اختیارات دینے سے متعلق ہے۔ قومی اسمبلی سے اس ضمن میں بل منظور ہو چکے ہیں جو اب سینیٹ میں ہیں۔

سینیٹ کی دو کمیٹیاں اس پر کام کر رہی ہیں، سینیٹ کی پولیٹیکل کمیٹی اپوزیشن اور حکومت کے اراکین پر مشتمل ہے جس میں یہ بل زیر بحث ہیں۔ جبکہ سینٹ کی پارلیمانی افیئرز کے بارے میں کمیٹی کے اندر بھی اس بل پر غور جاری ہے۔ اگر سینیٹ میں اس بل پر مزید ترامیم آئیں تو یہ دوبارہ قومی اسمبلی میں آئے گا اور قومی اسمبلی میں ان پر دوبارہ ووٹنگ ہوگی