جنگی جرائم کے ارتکاب کے بعد بھارت کو سکیورٹی کونسل میں بیٹھنے اور اس کی صدارت کا کوئی حق نہیں ہے،صدرآزاد کشمیر سردار مسعود خان کا ٹورنٹو میں تقریب سے خطاب

جنگی جرائم کے ارتکاب کے بعد بھارت کو سکیورٹی کونسل میں بیٹھنے اور اس کی صدارت کا کوئی حق نہیں ہے،صدرآزاد کشمیر سردار مسعود خان کا ٹورنٹو میں تقریب سے خطاب

اسلام آباد :آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ جنگی جرائم کے ارتکاب کے بعد بھارت کو سکیورٹی کونسل میں بیٹھنے اوراس کی صدارت کا کوئی حق نہیں ہے۔پاکستانی ہائی کمیشن کے مطابق پیر کو فرینڈز آف کشمیر اور کنیڈین کونسل فار جسٹس اینڈ پیس کے زیر اہتمام ٹورنٹو میں منعقدہ ’’انٹرنیشنل سالیڈیرٹی کانفرنس آن کشمیر ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیریوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانے پر بھارت کا جنیوا کنوشن اور عالمی قوانین کے تحت محاسبہ کیا جائے اور بھارت سے ہر قسم کا استثنا اور چھوٹ واپس لی جائے۔

سردار مسعود خان نے کانفرنس کے شرکا کو بتایا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے دو سال پرانے محاصرے اور غاصبانہ قبضے کے دو سال بعد بھی ہزاروں مردوں، بچوں اور عورتوں کو غیر قانونی طور پر پابند سلاسل کرنے اور عقوبت خانوں اور نظر بندی کیمپوں میں زیر حراست رکھنے اور اذیت دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں سے ان کی 80 فیصد زمین چھین کر ان پر ہندو آبادی اور کاروبار مسلط کرنے کے ساتھ ساتھ ریاست کی مسلمان اکثریت کو ختم کرنے کے لیے ہندوستان بھر سے لاکھوں ہندووں کو کشمیر میں غیر قانونی طور پر بسایا جا رہا ہے۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیری اپنے حقوق کے لیے دنیا کی پارلیمانوں اور میڈیا اداروں کی جانب سے ساتھ دیے جانے پر شکر گذار ہیں تاہم اس وقت ریاست کشمیر اور کشمیری عوام کی شناخت داؤ پر لگی ہوئی ہے،اس لیے اس موقع پر دنیا کو خاموش بیٹھے رہنے کی بجائے بھارت کو اس کے مظالم سے روکنے اور کشمیریوں کو تباہی اور قتل و غارت سے بچانے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے قونصل جنرل آف پاکستان ٹورنٹو عبد الحمید نے بھارت کی جانب سے پانچ اگست 2019 کے اقدامات کو مقبوضہ کشمیر کی آبادی کے ڈھانچے کو بدلنے اور وادی میں استصواب رائے کو نا ممکن بنانے کی سعی قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے پچھلے 15 ماہ میں بیرونی آبادکاروں کو مقبوضہ کشمیر میں بسانے کی رفتار فلسطینی اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں جاری غیر قانونی آبادکاری سےکئی درجے زیادہ ہے اور یہ عمل دنیا بھر کی آنکھوں کے سامنے دہرایا جا رہا ہے

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔قونصل جنرل آف پاکستان ٹورنٹو عبد الحمید نے مزید کہا کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں،عالمی قوانین،چوتھے جنیوا کنوشن،شملہ معاہدہ کے ساتھ ساتھ 1957 کی قرارداد نمبر 122 کی صریح خلاف ورزی ہیں کیونکہ یہ قرارداد کشمیر مسئلہ کے حل کے لیے 9 سالوں کے غوروخوض اور لاتعداد کوششوں،رپورٹوں،تجاویز اورمباحث کے بعد منظور ہوئی جس میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی سے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کیا جائے گا۔

کانفرنس سے آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم اور قونصل جنرل آف پاکستان ٹورنٹو کے علاوہ کنیڈین مصنف اور صحافی رابرٹ فنٹانہ،جسٹ پیس ایڈووکیٹس کینیڈا کی ڈائریکٹر کیرن راڈ مین،کنیڈین عرب فیڈریشن کے نائب صدر ڈاکٹر علی ملہا،فرینڈز آف کشمیر کینیڈا کے رکن اور انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک کنٹمپریری اسلامک تھاٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ظفر بنگش اور کشمیر سٹیڈیز میں پی ایچ ڈی کی مقامی طالبہ مشالہ لیوس نے بھی خطاب کیا اور مسئلہ کشمیر کے انسانی اور قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی