عالمی تنازعات ، کورونا وائر س کی وبااور موسمیاتی تبدیلیوں سےبھوک کے بحران کا خدشہ ہے، اقوام متحدہ

عالمی تنازعات ، کورونا وائر س کی وبااور موسمیاتی تبدیلیوں سےبھوک کے بحران کا خدشہ ہے، اقوام متحدہ

اسلام آباد :اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا کے 20مختلف ممالک میں بھوک کے بحران کا خطرہ ہے ۔سیاسی تنازعات ، کورونا وائر س کی وبااور موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید اثرات کا خدشہ ہے ۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر عالمی برادری نے اس حوالہ سے مثبت اقدامات نہ کئے تو دنیا کے 20مختلف ممالک میں شدید بھوک کے بحران میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

معروف بین الاقوامی اداروں ورلڈفوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی ) اور فوڈ اینڈ ایگری کچرل آرگنائزیشن (ایف اے ڈبلیو) نے اپنی ایک مشترکہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اس وقت بین الاقوامی سطح پر 3کروڑ 40لاکھ افراد انتہائی غذائی قلت کا شکار ہیں اور بھوک کی وجہ سے موت کے قریب ہیں ۔ ڈبلیو ایف پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے کہا ہے کہ ’’ ہمیں مستقبل میں تباہی کا خدشہ ہے ‘‘۔

تنازعات کے نتیجہ میں قحط ، ماحولیاتی تبدیلیوں اور کووڈ-19کی عالمی وبا کے باعث لاکھوں خاندان بھوک کا شکار ہونے کے قریب ہیں ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت جنگ زدہ یمن ، جنوبی سوڈان اور شمالی نائیجریا میں بھوک کی وجہ سے برا حال ہے۔ اس کے علاوہ افریقی ممالک میں غذائی قلت کے شدید مسائل اور افغانستان ، شام ، لبنان اور ہیٹی میں بھی شدید بھوک میں اضافہ کا خدشہ ہے ۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ ہنگر ہاٹ اسپاٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھوک کے مسائل سے دو چار ممالک میں جامع حکمت عملی کے تحت انسانی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ غذائی قلت کے انتہائی خطرات سے دو چار ممالک کی معاونت کی جا سکے