صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پرکانفرنس سے خطاب

سخت قوانین، ان پر عملدرآمد، فوری انصاف، بدعنوانی کے خلاف معاشرے کی عدم برداشت، خدا خوفی اور میڈیا کے ذریعے آگاہی سے بدعنوانی پر قابو پایا جا سکتا ہے، صدر مملکت

 صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پرکانفرنس سے خطاب

اسلام آباد۔ :صدر مملکت ڈاکر عارف علوی نے بدعنوانی کی روک تھام کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سخت قوانین، ان پر عملدرآمد، فوری انصاف، معاشرے کی بدعنوانی کے خلاف عدم برداشت، خدا خوفی اور میڈیا کے ذریعے آگاہی سے اس لعنت پر قابو پایا جا سکتا ہے، ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں، دنیا اخلاقیات پر مبنی قیادت کے لیے پکار رہی ہے اور یہ قیادت پاکستان سے نکلے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر ’’کرپشن سے پاک پاکستان قوم کا فخر‘‘کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف نیب افسران کی کارکردگی اور کوششوں کو سراہتے ہیں، لالچ بری بلا ہے اور اسی امر کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب افسران کردار کی پختگی کے ساتھ بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 6 عوامل سے بدعنوانی میں کمی لائی جا سکتی ہے، بدعنوانی کی روک تھام کے لیے قانون ہونا چاہیے، قانون سازی پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے جبکہ دوسرا بڑا عنصر قانون پر عملدرآمد ہے جو کہ ایگزیکٹو کا کام ہے، قانون پر سختی سے عملدرآمد ہوگا تو اس سے بدعنوان عناصر میں خوف پیدا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نظام انصاف میں بہتری اور عدالتوں میں تیزی سے انصاف کی فراہمی سے بھی بدعنوانی میں کمی لائی جا سکتی ہے، حالیہ ایک سروے کے پرسیپشن انڈیکس میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ کیسز کی طوالت کے باعث انصاف کی فراہمی متاثر ہوتی ہے، پولیس میں سب سے زیادہ کرپشن کا تاثر ہے، حالیہ سروے رپورٹ میں لوگوں نے سخت قوانین اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی ہے، جب لوگوں کو سزائیں ملنے میں تاخیر ہوتی ہے تو ان میں ناامیدی، مایوسی اور ہیجانی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انسان میں خدا خوفی ہوگی تو وہ جرم اور بے ایمانی سے گریز کرے گا، اسلامی تاریخ میں بھی امانت داری کی تلقین کی گئی ہے اور یہ اسلام کا بنیادی پیغام بھی ہے، اسی طرح معاشرے کو بھی بدعنوانی کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، معاشرے کی تنقید اور دباؤ سے بھی بدعنوانی میں کمی لائی جا سکتی ہے، سیالکوٹ جیسے واقعات کے تناظر میں معاشرے کا کردار اور سوچ اہم ہوتی ہے، معاشرے کو بدعنوانی کے خلاف عدم برداشت کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

صدر مملکت نے کہا کہ وائٹ کالر کرائمز کی تحقیقات کرنا بڑا چیلنج ہے، بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، اسلام میں رشوت لینے اور دینے والے دونوں کو جہنمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کی روک تھام میں میڈیا کا اہم کردار ہے، اس تناظر میں وسل بلور ایکٹ اہمیت کا حامل ہے، آج کل میڈیا پس منظر جانے بغیر صحافت کر رہا ہے، میڈیا کو عوام کو آگاہی فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے بدعنوان عناصر سے 821 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں جو کہ نمایاں کارکردگی ہے تاہم بدعنوانی روکنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔