جارج فلائیڈ قتل: ملزم پولیس اہلکار کی ضمانت 10 لاکھ ڈالر مقرر

جارج کی ہلاکت میں ملوث سفید فام پولیس اہلکار ڈیرک چوون پر دوسرے درجے کے قتل کا مقدمہ چل رہا ہے

جارج فلائیڈ قتل: ملزم پولیس اہلکار کی ضمانت 10 لاکھ ڈالر مقرر

سرکاری پراسیکیوٹر میتھیو فرینک نے الزامات کی شدت اور اس معاملے پر عوامی سطح پر سخت ردعمل، دونوں کی وجہ سے ڈیرک چوون کو بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کی ضمانت طلب کی تھی۔ اس معاملے میں اگلی سماعت کے لیے جج نے 29 جون کی تاریخ مقرر کردی واضح رہے کہ منی ایپلس کے جارج فلائیڈ کے ساتھ گرفتار ہونے والے دیگر 3 افسران پر اس قتل کی مدد کا الزام عائد کیا گیا ہے اور اب تک انہیں ایک مقامی جیل میں ہی رکھا گیا ہے۔

پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری فارج فلائیڈ کی موت کے بعد امریکا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ اس وقت شروع تھا جب ایک پولیس افسر کی ویڈیو وائرل ہوئی جسے ایک سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی گردن پر گھٹنا رکھے دیکھا جا سکتا تھا  سفید فام پولیس افسر سے جارج فلائیڈ زندگی کی بھیک مانگتے رہے لیکن وہ پولیس افسر 9منٹ تک اس کی گردن پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا رہا جس سے بالآخر اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔

یہ ویڈیو چند گھنٹوں میں ہی دنیا بھر میں وائرل ہو گئی تھی جس کے بعد امریکا بھر میں مظاہرے، پرتشدد واقعات اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جارج کی ہلاکت میں ملوث سفید فام پولیس اہلکار ڈیرک چوون پر دوسرے درجے کے قتل کا مقدمہ چل رہا ہے سیاہ فام شہری کی موت کے بعد مینی ایپلس میں ہونے والے پرتشدد واقعات اور احتجاج کی گزشتہ 50سال میں کوئی مثال نہیں ملتی جہاں آخری مرتبہ اس طرح کے حالات 1968 میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل کے بعد پیدا ہوئے تھے۔