وزیرا عظم کے اقدامات کی بدولت گنے کے کاشتکاروں کو تقریباً نوے ارب روپے کا براہ راست فائدہ ہوا، پہلی مرتبہ کسی حکومت نے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا ہے ، کاشتکاروں کا وزیراعظم کو خراج تحسین

وزیرا عظم کے اقدامات کی بدولت گنے کے کاشتکاروں کو تقریباً نوے ارب روپے کا براہ راست فائدہ ہوا، پہلی مرتبہ کسی حکومت نے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا ہے ، کاشتکاروں کا وزیراعظم کو خراج تحسین

اسلام آباد :کاشتکار برادری نے وزیر اعظم عمران خان کے موثر اقدام کو سراہا ہے جس کے نتیجے میں پنجاب اسمبلی سے شوگر فیکٹریز کنٹرول (ترمیمی) ایکٹ 2021ء منظور ہوا اور صوبے میں گنے کے کاشت کاروں کو 80 سے 90 ارب روپے کا براہ راست فائدہ ہوا ہے۔ کاشتکاروں کے نمائندوں نے منگل کو وزیراعظم ہائوس میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور وزیر اعظم کی قیادت کو بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کسی حکومت یا رہنما نے کسانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے کبھی ا تنا درد سر نہیں لیا ۔73 سال میں پہلی مرتبہ کسی حکومت نے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری، وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی سید فخر امام، وزیر مملکت برائے اطلاعات نشریات فرخ حبیب، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی مسرت اقبال چیمہ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل بھی موجود تھے۔ کسانوں کےنمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان ن نے اقتصادی نمو میں زرعی شعبے کے اہم کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبہ ملکی ترقی کے لئے حکومت کی اولین ترجیح ہے، انہوں نے کاشتکاروں کے نمائندوں کو یقین دلایا کہ کسانوں کا استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ منافع اور منافع خوری میں فرق ہوتا ہے حکومت انہیں گٹھ جوڑ اور مافیا کے استحصال سے تحفظ فراہم کرے گی ۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک سماجی و اقتصادی ترقی زراعت اور صنعتی شعبوں کی وسیع تر ترقی سے منسلک ہے۔ تاہم اللہ تعالی کے قانون کے مطابق جو اقوام قانون کی حکمرانی اور انصاف کی پیروی نہیں کرتیں وہ آگے نہیں بڑھ سکتیں ۔وزیراعظم نے اس ضمن میں حضرت علی کے قول کا حوالہ دیا کہ کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے نا انصافی کا نظام نہیں چل سکتا ۔

وزیراعظم نے کہاکہ وہ کسی لابی کا حصہ ہیں اور نہ ہی ان کے پاکستان میں کوئی کاروباری مفادات ہیں، اﷲ تعالیٰ نے پاکستان کو ہر قسم کی نعمتوں سے نوازا ہے، بدقسمتی سے ملک ناانصافی کی وجہ سے ترقی سے ہٹ کر تنزلی کی طرف گیا ہے، انصاف سے ہی قومیں ترقی کرتی ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ جب ہم برسراقتدار آئے تو ہم نے دیکھا کہ چینی کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں، کسانوں کو ان کی فصلوں کا معاوضہ نہیں مل رہا تھا اور جو مقررہ امدادی قیمت ہوتی تھی وہ بھی نہیں ملتی تھی، شوگر انڈسٹری میں ایک مافیا تھا جو مہنگی چینی فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ نہ تو کسانوں کو معاوضہ دیتا تھا اور نہ ہی اپنا صحیح منافع سامنے لاتا تھا اور ٹیکس چوری بھی کرتا تھا۔ وزیراعظم نے کہاکہ بدقسمتی سے ملک میں دیگر شعبوں میں بھی ایسے مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں جو کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھا تے رہے ہیں ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 25 سال سے ان کی جدوجہد بدعنوانی کے خلاف ہے، حکمرانوں کی کرپشن ملک تباہ کر دیتی ہے، تمام ترقی پذیر ممالک میں حکمران پیسا چوری کر کے باہر لے جاتے ہیں، تیسری دنیا کے تمام ممالک کی ایک ہی کہانی ہے، جب حکمران پیسہ بناتے ہیں تو دیگر طاقتور لوگ بھی اسی کام میں لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ایسے ممالک ترقی نہیں کر پاتے۔ وزیراعظم نے کہاکہ شوگر مل ایسوسی ایشن کے معاملات کی ایف آئی اے نے جب تحقیقات شروع کیں تو ایف آئی اے کو دھمکی دی گئی کہ اگر تحقیقات کی گئیں تو چینی غائب کر دی جائے گی جس سے قیمتیں مزید بڑھیں گی۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے ایک ایکٹ بھی بنایا جو بڑا مشکل کام تھا ۔انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کیلئے مختصر، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے، مختصر مدت میں زرعی شعبہ پاکستان کو ترقی دلا سکتا ہے، ہم نے قانون بنا کر کسانوں کو گنے کا پورا معاوضہ مقررہ وقت میں دلوایا ہے جس سے کسانوں میں خوشحالی آئی ہے، فصلوں کی پیداوار بہت اچھی رہی ہے۔ گنے، چاول، گندم اور مکئی کی پیداوار بہتر ہوئی ہے اور حکومتی پالیسیوں کا ایک ہی سال میں پھل مل گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ کسانوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رہے گا، وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی سید فخر امام اور معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ ملک بھر میں کسانوں سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ زرعی شعبہ کو ترقی دی جا سکے اور کسانوں کو سہولیات مل سکیں۔ انہوں نے کہاکہ چین میں گائے کے دودھ کی پیداوار پاکستان سے 6 گنا زیادہ ہے، چین نے پاکستان کو لائیوسٹاک اور زراعت کے شعبے کی ترقی کیلئے تعاون کی پیشکش کی ہے، اس سلسلہ میں کسان تنظموں کی مشاورت سے اقدامات کئے جائیں گے، مختلف زرعی آلات اور ٹیکنالوجی چین سے لاسکتے ہیں، چین دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے، سی پیک کی وجہ سے چین ہماری پوری مدد کر سکتا ہے۔ تحقیق اور بہتر بیج کے استعمال کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ بڑی صنعتوں میں ہماری زبردست شرح نمو رہی ہے، ملکی ترقی کیلئے صنعتیں بہت ضروری ہیں، صنعتیں جب تک نہیں بڑھیں گی، آمدنی میں اضافہ نہیں ہوگا اور ہم قرضے بھی واپس نہیں کر سکیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ صنعتی شعبے کی بھی پوری مدد کریں لیکن منافع اور ناجائز منافع میں فرق ہوتا ہے، منافع بے شک حاصل کیا جائے لیکن ٹیکس بھی دینا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہاکہ یہ نہیں کرنا چاہئے کہ گٹھ جوڑ کر لیں اور مصنوعی قیمتیں بڑھا کر لوگوں کو مہنگی چیزیں فراہم کی جائیں اور کسانوں کو بھی ان کی پیداوار کا معاوضہ نہ دیا جائے، حکومت کسانوں کا کسی صورت استحصال نہیں ہونے دے گی۔

انہوں نے کہاکہ سابق حکومتوں کے معاہدوں کی وجہ سے مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہیں، بجلی کی قیمت خرید اور قیمت فروخت میں بڑا فرق ہے، اسی وجہ سے گردشی قرضہ بڑھتا ہے، اگر بجلی کی قیمت برقرار رکھی جائے تو قرضے بڑھتے ہیں اور اگر بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا جائے تو صنعتیں اور کسان اس پر اعتراض کرتے ہیں لیکن ہم اس کا حل تلاش کر رہے ہیں، شمسی توانائی کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں، ہماری پوری کوشش ہے کہ زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے، زرعی ٹیوب ویلوں کے نرخوں میں ریلیف دینے کے معاملہ کا جائزہ لیا جائے گا۔وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی سید فخر امام نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، 1960ء سے لیکر 2000ء کے زرعی شعبہ کی شرح نمو 4 فیصد رہی جبکہ 1998ء سے لیکر اب تک تقریباً 3 فیصد رہی ہے، کورونا کے باوجود ملک میں رواں سال مختلف فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے اور اگلے سال کیلئے زرعی شرح نمو کا ہدف 3.5 فیصد رکھا گیا ہے۔

گنے کے شعبے میں اجارہ داری ختم کی گئی ہے، زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی کیلئے اقدامات کریں گے، ہم اپنی برآمدات میں بھی اضافہ کریں گے، زرعی شعبہ میں ملک کو خودکفیل بنانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور زرعی شعبہ برآمدات میں اضافے اور ملک کو حقیقی معنوں میں خودمختار بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی جمشید اقبال چیمہ نے کہاکہ ماضی میں شریف خاندان نے اپنے اور اپنے دوستوں کے فائدے کیلئے کسانوں کا استحصال کیا، 2018ءمیں گنے کے کسانوں سے 80 ارب لوٹے گئے،گزشتہ حکومتوں میں کسانوں سے سرکاری نرخ سے بھی کم قیمت پر گنا خریدا گیا۔ کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر نے کہا کہ پہلی مرتبہ گنے کی قیمت کے حوالہ سے کسانوں کو فائدہ ہوا ہے اور 80 سے 90 ارب روپے کسانوں کو ملے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ شوگر فیکرٹریز کنٹرول (ترمیمی) ایکٹ کی منظوری پر وزیراعظم کے ممنون ہیں، ماضی میں صرف اجلاس ہی ہوتے تھے، عمل کچھ بھی نہیں ہوتا تھا، 73 سال میں پہلی مرتبہ کسی حکومت نے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ کارٹن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب کے چیئرمین بلال خان نے کہا کہ زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے حکومت کے اقدامات قابل تحسین ہیں

۔ چیئرمین آل پاکستان کسان فائونڈیشن محمود الحق نے کہا کہ حکومت نے شوگر فیکرٹریز کنٹرول ایکٹ کی منظوری دے کر کسانوں کے دل جیت لئے ہیں، کسانوں کے حق میں قانون سازی پر وزیراعظم کے مشکور ہیں۔ کسان بچائو تحریک کے چیئرمین محمد یٰسین نے کہا کہ ماضی میں کسانوں کی کہیں دادرسی نہیں ہو تی تھی، آج وزیراعظم ہائوس میں ان کی آواز سنی جا رہی ہے، زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے حکومتی اقدامات اور قانون سازی سے کسان بہت خوش ہیں