بھارت کشیدگی بڑھا رہا ہے، ایک ہزار سے زیادہ مرتبہ جنگ بندی معاہدہ توڑا

ھارت اب تک 1000 سے زیادہ مرتبہ سیز فائر معاہدہ کی خلاف ورزیاں کر چکا ہے۔LOC پر شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا،مقبوضہ کشمیر میں ماروائے عدالت قتل معمول بن چکا ہ

بھارت کشیدگی بڑھا رہا ہے، ایک ہزار سے زیادہ مرتبہ جنگ بندی معاہدہ توڑا

اسلام آباد:  پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر مسلسل کشیدگی بڑھائی جارہی ہے۔ لائن آف کنٹرول پربھارت کی جانب سے مسلسل فائرنگ میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا اورمقبوضہ کشمیر میں ماروائےعدالت قتل معمول بن چکا ہے،بھارتی عزائم سے غافل نہیں ہے،سینئر بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا گیا ۔  دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ بلااشتعال فائرنگ میں ہیوی آرٹلری، مارٹر گولوں اور بھاری خود کار ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اب تک 1000 سے زیادہ مرتبہ سیز فائر معاہدہ کی خلاف ورزیاں کر چکا ہے۔LOC پر شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا،مقبوضہ کشمیر میں ماروائے عدالت قتل معمول بن چکا ہے۔ بھارتی عزائم سے غافل نہیں،پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوششیں کررہا ہے،رمضان المبارک میں ہمیشہ کی طرح بھارت کی جانب سے سرحد پر چھیڑچھاڑ کا سلسلہ مسلسل جاری،کنٹرول لائن پرمارٹر گولے،خود کار ہتھیاروں کا استعمال کیے جارہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں بھی اس نےظلم اور دہشت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ 

بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں ماوراء عدالت قتل معمول بن چکے ہیں۔انھوں نے واضح کیا کہ کرونا کی ہلاکت خیزیوں کے باعث ہر ملک اپنے مسائل میں الجھا ہے لیکن چیلنجز کے باوجود بعض اہم ایشوز پر عالمی توجہ مبذول رہنی چاہیئے۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔  پاکستان کی کوششیں اب بے نتیجہ نہیں رہیں،وزیر خارجہ مسلسل اس حوالے سے عالمی سطح پر رابطے کر رہے ہیں اور دنیا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دے رہی ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی عزائم سے پاکستان غافل نہیں ہے۔ 

دفتر خارجہ کی طرف سے بھارتی قابض افواج کے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ اس طرح کی بے ہودہ حرکتیں 2003 کے سیز فائر معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں اور یہ تمام بنیادی انسانی اقدار اور پیشہ ورانہ فوجی طرز عمل کی بھی خلاف ورزی ہے۔ بھارتی فورسز کی طرف سے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں کنٹرول لائن کے ساتھ صورتحال کی خرابی اور علاقائی امن و سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔  اس میں مزید کہا گیا کہ کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری کے ساتھ تناؤ بڑھا کر بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی صورتحال سے توجہ نہیں ہٹا سکتا۔