بھرپور نیند جسمانی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کا اہم محرک

بھرپور نیند ہمارے جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے۔  اس سلسلے میں ایک تحقیق سامنے آئی ہے جس کے مطابق ہر گزرتے دن کے ساتھ وائرس کے جوابی حملوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے جسمانی دفاعی نظام کا مضبوط ہونا ضروری ہے

بھرپور نیند جسمانی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کا اہم محرک

ایک ایسے وقت میں جبکہ کورونا وائرس کی بدترین وبا پھیلی ہوئی ہے اور ہم میں سے زیادہ تر لوگ ذہنی دباؤ اور ہیجانی کیفیت میں ہیں، اسکی وجہ سے ہمارے جسمانی نظام میں پیدا ہونے والے خلل کے باعث ہماری نیندیں بھی اڑ گئی ہیں، حالانکہ یہ وہ وقت ہے کہ ہم بہت اچھی اور بھرپور نیند لیں تاکہ یہ ہمیں صحت مند رکھے۔ بھرپور نیند ہمارے جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے۔  اس سلسلے میں ایک تحقیق سامنے آئی ہے جس کے مطابق ہر گزرتے دن کے ساتھ وائرس کے جوابی حملوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے جسمانی دفاعی نظام کا مضبوط ہونا ضروری ہے لیکن بہت زیادہ اہم بات یہ ہے کہ نیند میں خلل اور بے خوابی ہمارے مدافعتی نظام کو کمزور کرسکتی ہے، اور یہ وائرس کو موثر جواب دینے کے حوالے سے انتہائی تشویشناک صورتحال ہوگی۔

اس برس جنوری میں جب ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کی توجہ اس وائرس کی جانب نہیں تھی، اس وقت امریکا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے نیند کے حوالے سے ایک اہم بین الاقوامی اجلاس کو اسپانسر کیا تھا۔

جس کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے مدافعتی نظام کو ریگولیٹ کرنے میں نیند جو اہم کردار ادا کرتی ہے اسکی کلینیکل اہمیت کو اجاگر کیا جاسکے۔  جسم کا مدافعتی نظام کسی بھی متعدی مرض یا وائرل حملوں کو روکتا ہے اور اس کی تہہ یا شیلڈ ہوتی ہیں جو کہ بیرونی حملہ آور عنصر کو بار بار ناکام بناکر جسم کو محفوظ رکھتا ہے۔

برطانیہ: کورونا کی تشخیص کیلئے اینٹی باڈی ٹیسٹ

پہلا دفاعی نظام ہماری جلد ہوتی ہے جو کہ سختی پیک کیا ہوا سیل سے بنا ہوتا ہے اور  وائرس اور بیکٹریا کو جسم میں داخل ہونے سے روکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جلد کی مختلف پرتیں کیڑے مکوڑوں سے لے کر وائرس اور متعدی امراض کو مختلف انداز میں روکتی ہیں۔ لیکن یہ پھر بھی آنکھ، منہ اور ناک کے ذریعے اندر داخل ہوسکتے ہیں، تاہم وہاں بھی متعدد رکاوٹیں ان کی راہ میں حائل ہوتی ہیں۔ پسو یا کوئی اور کیٹرا جب آنکھوں میں داخل ہوتے ہیں تو اینٹی سیپٹک آنسو انہیں مار دیتے ہیں۔ موکس ممبرین جو کہ ناک کی نالیوں میں ہوتے ہیں اور اسے پھیپھڑا تیار کرتا ہے یہ بھی بیرونی حملہ آور کو مارتا ہے۔ لیکن اسکے باوجود بھی اگر کوئی پیتھوجین جسم کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوجائے تو جسم کی دوسری مدافعتی لیئر (پرت) بلڈ اسٹریم کی شکل میں حملہ آور کو پہچاننے اور مارنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

کیا ایئرکنڈیشنر سے کورونا وائرس پھیل سکتا ہے؟

 اسکے علاوہ خون کے سفید خلیات سمیت کئی اور دفاعی نظام بیرونی مداخلت کار سے نمٹنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سارے اور ایسے ہی دیگر دفاعی نظام اس وقت موثر انداز میں کام کرتے ہیں جب ہم رات کو سات سے آٹھ گھنٹے اچھی طرح سے سوئیں۔ تاکہ دن بھر جسم اس قدر طاقتور ہو کہ وہ بیرونی حملوں سے نمٹ سکے۔  لہٰذا رات کی بھرپور نیند ہمارے جسم کے سارے مدافعتی نظام کو موثر بناتی ہے، اس حوالے سے 2002 میں یونیورسٹی آف شکاگو کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک گروپ کو صرف چار گھنٹے کی نیند کرنے کی اجازت دی گئی جس کے نتیجے میں ان کے جسم کے نصف دفاعی نظام غیر موثر ہوگئے۔  جبکہ دوسرے گروپ کو ساڑھے سات سے آٹھ گھنٹے سونے کا موقع دیا گیا، اس سے یہ معلوم ہوا کہ جن کو چھ گھنٹے سے کم نیند ملی وہ وائرل حملوں کا موثر دفاع نہ کرسکے اور جو سات سے آٹھ گھنٹے سوئے انکا دفاعی نظام بہت اچھا تھا اور وہ بیماریوں سے محفوظ رہے۔