عالمی برادری کرونا کے شکنجے میں

عالمی برادری کرونا کے شکنجے میں

آج کورونا کی تباہ کاریاں سب کے سامنے ہیں اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنی تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود اس وبا کے سامنے مجبور و بے کس نظر آرہے ہیں، اس وقت دنیا بھر میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد انتیس لاکھ سے متجاوز ہو چکی ہے جبکہ اڑہائی لاکھ سے زیادہ افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ کرونا کی تباہ کاریوں کا سلسلہ کسی خاص خطے میں نہیں بلکہ بلا تخصیص دنیا کے تمام ملکوں میں جاری ہے۔ اس ضمن میں خوش آئند امر یہ ہے کہ جہاں سے اس وبا کا آغاز ہوا تھا یعنی ووہان وہاں اس مرض کو شکست دے دی گئی ہے اور وہاں سے اس کا مکمل خاتمہ کردیا گیا ہے۔

اگر ہم اس امر پر غور کریں کہ ووہان شہر سے اس وبا کا خاتمہ کیسے کیا گیا تو صرف ایک ہی منفرد عمل نظر آتا ہے کہ چینی حکومت نے اس کو مکمل طور پر بند کردیا تھا اور محاصرہ کرکے اسے دوسرے حصوں سے مکمل طور پر کاٹ دیا تھا جبکہ پورے شہر میں شہریوں کو چینی حکومت کھانا پہنچا رہی تھی تاکہ شہریوں کو اس محاصرے سے کسی قسم کی دقت نہ ہو، یعنی چینی حکومت نے پورے شہر کو سوشل فاصلوں کا پابند کردیا تھا، چین کے اقدام سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ اس وبا سے بچاﺅ کا واحد طریقہ آپس میں سوشل فاصلوں میں فاصلہ رکھنے میں ہے، لیکن اس ضمن میں اگر ہم اپنے ماحول پر نظر ڈالیں تو یہ افسوس ناک صورت حال سامنے آتی ہے کہ جہاں جہاں حکومت نے شہریوں کو آپس میں چھ فٹ کا فاصلہ رکھنے کا پابند بنایا ہے وہاں بھی اس حکم کو ہوا میں اڑاتے ہوئے شہری بلا خوف و خطر سڑکوں پر مٹر گشت کرتے، موٹر سائکلوں اور گاڑیوں پر گھموتے پھرتے نظر آتے ہیں، اور اگر اپنے ہاں اس مرض کا شکار ہونے والوں کی تعداد پر نظر ڈالی جائے تو ہمارے ہاں اس کا شکار ہونے والوں کی تعداد امریکہ سے بھی زیادہ ہے۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی خاطر چینی قیادت نے ووہان شہر میں مکمل طور پر لاک ڈاون کر دیا تھا۔اس دوران یہ کوشش کی گئی کہ عوام کو بیماری کی تکلیف کے علاوہ اور مزید کوئی تکلیف نہ ہو اور نہ ہی کسی چیز کی قلت محسوس ہو، نیز کرونا مریضوں کو علاج کی تمام تر سہولتیں وہیں کے ہسپتالوں میں حاصل ہوں اور انہیں دوسرے شہروں میں نہ جانا پڑے۔ بہرحال اس وقت ہمیں ووہان کا مسئلہ درپیش نہیں ووہان تو اس مرحلے سے کامیابی کے ساتھ گزرچکا ہے اب ہمیں اپنے وطن عزیز کا مسئلہ درپیش ہے جہاں کورونا کے شکاروں کی تعداد میںہر آنے والے دن میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام نے اس مرض کی سنگینی کو نہیں سمجھا بلکہ عوام کی بہت بڑی تعداد اس بیماری پر ہی یقین نہیں رکھتی بلکہ اس کو محض ایک خوف کا نام دے رہی ہے اور جب کوئی اس بیماری پر ہی یقین نہیں رکھتا تو پھر پرہیز اور سماجی فاصلوں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور ہماری یہی لاپرواہی ہمیں مسلسل اس بیماری کے شکنجے میں کستی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ اس وبا سے بچاﺅ کی واحد سبیل سماجی فاصلوں کو قائم رکھنا اور ان احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہے جو مختلف اوقات میں ڈاکٹر اور حکومت ہمیں بتاتی رہی ہے اور ان میں اہم ترین احتیاط سماجی فاصلوں کا قیام ہے، یعنی تمام شہری اول تو گھروں میں محدود رہیں اور اگر کسی ضرورت کے تحت باہر نکلنا بھی ہو تو اکیلے باہر نکلیں اور باہر بھی کوشش جاری رکھیں کہ کسی دوسرے شہری کے قریب نہ ہوں بلکہ ان کا دیگر شہریوں سے چھ فٹ کا فاصلہ قائم رہے، جبکہ ہمارے ہاں سب سے بڑی مصیبت اور بداحتیاطی یہ ہے کہ لوگ نہ صرف خود باہر نکل کر پھر رہے ہیں بلکہ اپنے ہمراہ خواتین اور بچوں کو بھی لئے ہوئے ہیں اور اگر کوئی ان سے اس کی وجہ پوچھے تو سادگی سے جواب دیتے ہیں کہ بچے گھر میں بند ہونے سے تنگ آگئے تھے یا یہ کہ کسی ضروری کام سے نکلے ہیں۔

ہماری یہ بد احتیاطی ہمیں مزید خطرات میں دھکلینے کا باعث بنے گی۔ کیونکہ اس وقت کرونا سے بچاﺅ کا واحد طریقہ یہی سامنے آیا ہے کہ تمام افراد کچھ وقت کے لئے اپنے تمام سماجی تعلقات کو فراموش کرتے ہوئے خود کو قید تنہائی میں محفوظ کرلیں یہ چند روزہ تکلیف انہیں بڑی مصیبت سے تحفظ دے گی اور اگر ہم نے یہ چند روزہ اذیت برداشت نہ کی تو پھر کرونا کی تکلیف برداشت کرنا ہوگی۔ یاد رہے کہ ہمارا مقصد خوف پھیلانا نہیں یعنی یہ لازم نہیں کہ کرونا کے تمام مریض مرض کا شکار ہونے کے بعد زندگی کی بازی ہار جائیں گے بلکہ اگر خود کو قرنطینہ میں بند کرلیں اور سماجی فاصلے پیدا کرلیں تو صحت یاب بھی ہوجائیں گے،کیونکہ اب تک یہ خیال تھا کہ صرف عمر رسیدہ افراد ہی کرونا کا شکار ہوکر زندگی کی بازی ہار رہے ہیں لیکن اب دیکھنے میں آرہا ہے کہ زندگی کی بازی ہارنے والے کسی خاص عمر کے افراد نہیں بلکہ کوئی بھی اس مرض کا شکار ہوکر زندگی کی بازی ہار رہا ہے۔ لہذا ہمیں چاہئے کہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی زندگی کے تحفظ کے لئے عقل سے کام لیں اور کرونا کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے بچاﺅ کے طریقے پر عمل پیراہوں اور خود کو پندرہ سے بیس روز کے لئے قید تنہائی کا پابند کرلیں یہ پندرہ بیس روزہ قید تنہائی کی تکلیف ہمارے لئے خوش گوار اور روشن و صحت مند مستقبل کی ضمانت کا سبب بنے گی۔

خاص طورپر یہ موجودہ ماہ میں لازم ہے کیونکہ یہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے جس میں ہر شخص زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے، اللہ کی رضائیں حاصل کرنے اور اس مقدس اور رحمتوں سے بھرپور ماہ کی برکتیں حاصل کرنے میں کوشاں رہتاہے، ویسے تو تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ساتھ ایک ملاقات میں بیس نکات پر مشتمل معاہدہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں بعض مساجذ میں اس معاہدے پر عمل ہوتا نظر نہیں آرہا وہاں پر ہجوم بھی ہوتا ہے اور نمازیوں کے درمیانی فاصلے کو بھی مدنظر نہیں رکھا جارہا، ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ نے ہم پر اپنی جان کا تحفظ پہلے فرض کیا ہے اور عبادات بعدمیں ہیں، خاص طور پر موجودہ دور میں جب پوری دنیا کے افراد جان لیوا خطرے سے ٹکرارہے ہیں اس ماحول میں ہمیں اپنی جان کے تحفظ کو فوقیت دینا ضروری ہے ورنہ خود کشی کو حرام موت قرار دیا گیا ہے اور جان بوجھ کر موت کے منہ میں جانا خودکشی کے ہی مترادف ہے، لہذا ہمیں ہر صورت میں سماجی فاصلوں کو اہمیت دینا چاہئے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سماچی فاصلوں کے لئے ہمیں اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ویسے تو حکومت مکمل طور پر کوشاں ہے کہ عوام کے کسی بھی طبقے کو مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن اس کے باوجود ظاہر ہے کہ بائس کروڑ افرادکو تمام سہولتیں بہم پہنچانا ممکن نہیں ہے لہذا ہمیں یہ خطرہ تو مول لینا ہی پڑے گا لیکن اس ضمن میں یہ سوچنا کہ کرونا سے بچاﺅ کرتے ہوئے ہم کہیں عوام کو بھوک کا شکار کرکے مرنے کے لئے نہ چھوڑدیں تو ایسا نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے معاشرے میں مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے لہذا اگر کسی خطے میں حکومتی امداد نہ بھی پہنچ سکی تو وہاں رہنے والے دیگر افراد ایسے افراد کو کم از کم اتنی مدد ضرور فراہم کردیں گے کہ وہ بھوک کا شکار ہوکر زندگی کی بازی نہ ہاریں۔لہذا حکومت کو اس فکر کا شکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ اب یہ موذی مرض جس رفتار سے پھیل رہا اس کی راہ میں روڑے اٹکانے اور اس کی اس تیز رفتاری کے آگے بند باندھنے کی فکر کرنی چاہئے۔