حالیہ بحران نے عالمی سطح پر تعلیمی میدان میں جدت کی اہمیت کو اجاگر کیا

 کورونا وبا کے بعد ایألرننگ پر انحصار بڑھا ہے جس کے دوررس مثبت اثرات ہوں کے، مقررین کا مکالمے کے دوران اظہار خیال

اسلام آباد:  کورونا وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں صحت اور تعلیم کے شعبے شدید مسائل سے دو چار ہیں۔تا ہم وبا کے باعث ای۔ لرننگ کے عمل میں تیزی آئی ہے جس کا فروغ اس سے قبل ہی وقت کی اہم ضرورت بن چکا تھا۔مختلف اداروں کے نمائندہ ماہرین تعلیم و تحقیق   نے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی)  کے زیر اہتمام’ کورونا وبا اور سرکاری و نجی تعلیمی نظام کے لیے صحت و تعلیم کے چیلنجزکے زیر عنوان آن لائن مکالمے کے دوران کیا۔

الشفا ہاسپٹل راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر عائشہ بابر نے موضوع کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم، صحت اور معیشت کے شعبوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور وبا نے ان تمام شعبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تعلیم اور صحت کے درمیان ایک توازن قائم کرنے اور ای۔لرننگ پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

سکل ڈویلپمنٹ اکیڈیمی، برطانیہ کے سی ای او ڈاکٹر قیصر اے راجہ نے اس موقع پر کہا کہ کورونا وبا نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ایسا تعلیمی مواد جو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگی کا حامل نہیں رہا، اس نصاب سے نکال کر جدید مواد کو آن لائن نصاب کا حصہ بنایا جائے۔پاک ترک سکول سسٹمز سے تعلق رکھنے والی عائشہ اسلم کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں طلبہ اور اساتذہ کے لیے سب سے بڑا چیلینج یہ ہے ہ ہ اپنے آپ کو سیکھنے کے آن؛ائن عمل سے ہم آہنگ کریں۔

سکول ایجوکیشن سسٹم کی ڈائریکٹر صائمہ سبطین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکھنے کے آن لائن عمل کے حوالے سے حکومت کا تعلیمی چینل شروع کرنا ایک مستحسن اقدا م ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے پالیسی ریسرچ تجزیہ کار ڈاکٹر ساجد امین کاکہنا تھا کہ کوئی بھی تبدیلی ابتدا میں چند منفی نتائج کی حامل ہو سکتی ہے مگر آگے چل کر نئے مواقع کا باعث بن جاتی ہے۔انہوں نے کہا موجودہ بحران چند ماہ بعد ختم ہو جائے گا تا ہم اس دوران ای۔لرننگ وغیرہ کے ضمن میں پیشرفت آگے چل کر مفید ثابہ ہو گی۔ ایس ڈی پی آئی کے شاہد منہاس نے اس سے قبل وبا اور اس کے تعلیم و صحت پر اثرات کے مختلف پہلو اجاگر کیے۔