مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے، عالمی ادارہ صحت

پاکستان دنیا میں کورونا کے تیز ترین پھیلاؤ والا ملک بن گیا

مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے، عالمی ادارہ صحت

عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں کورونا کے تیز ترین پھیلاؤ والا ملک بن گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے پاکستان میں 2؍ ہفتے مکمل لاک ڈاؤن ضروری ہے،پاکستان میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 24فیصد ہے جو بہت زیادہ ہے، پاکستان نئے کیسز میں 10ویں نمبرپرآئسولیشن کانظام کمزور، شہری ہاتھوں کی صفائی، ماسک، سماجی فاصلہ اپنانے سے گریزاں ہیں۔

ہانگ کانگ کے اسٹڈی گروپ نے کورونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی پر پاکستان کو ایشیا اور بحرالکاہل کا چوتھا خطرناک ملک قرار دیدیا، جبکہ لاک ڈاؤن نرم کرنے پر عالمی ادارہ صحت نے بھی پاکستان کو خبردار کیا ہے کہا ہے کہ پاکستان لاک ڈاؤن نرم کرنے کی 6 میں سے کسی ایک شرط پر بھی پورا نہیں اترتا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں لاک ڈائون نہیں کرسکتے، ایس او پیز پر سختی سے عمل کرایا جائے۔ جبکہ وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کا مشورہ درست ہے، کورونا کے کیس بہت زیادہ بڑھے تو لاک ڈاؤن کرنا پڑیگا۔ 

تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) نے پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی سے کورونا کے پھیلاؤ کے حوالے سے اقدامات پرشدید تحفظات کااظہاکیا ہے۔ اور کہا ہے کہ نئے کیسز رپورٹ ہونے والوں میں پاکستان دنیا کے دسویں نمبر پر آ گیا ہے، کورونا کے مریض کوٹریس کرنا اور کسی جگہ آئسولیٹ کرنے کانظام بھی پاکستان میں کمزور ہے ۔جبکہ پاکستانی عوام ہاتھوں کی صفائی ، ماسک اور سماجی فاصلے کے اقدامات کو ماننے سے قاصر ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے اپنے مراسلے میں پاکستان میں دو ہفتے سخت اور دو ہفتے نرمی کے ساتھ لاک ڈاؤن اپنانے کی سفارش کی ہے اور روزانہ 50ہزار سے زائد ٹیسٹ کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ کورونا وائرس کا پھیلا ؤ اور مریضوں کو ٹریس کیا جا سکے ۔ عالمی ادارہ صحت پاکستان مشن کے سربراہ ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا کی جانب سے وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ اب کورونا پاکستان کے ہر ضلع تک پہنچ چکا ہے، پاکستان کے کل کیسز میں سے کراچی میں 34 فیصد، لاہور میں 19، پشاور میں 5.31، کوئٹہ میں 5.25، راولپنڈی میں 3.35 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ 

پاکستان میں میں لاک ڈاؤن کے دوران روزانہ ایک ہزار کیس رپورٹ ہوتے تھے،جزوی لاک ڈاؤن میں اوسطاً کیسز کی تعداد 2 ہزار تک پہنچ گئی،عید اور اسکے بعد کیسز کی تعداد روزانہ چار ہزار تک پہنچ چکی ہے اورنئے کیسز رپورٹ ہونے والوں میں پاکستان دنیا کے دسویں نمبر پر آ گیا ہے۔ پاکستان کورونا وائرس کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کی ایس او پیز پر پورا نہیں اتر ا، جس میں کورونا وائرس کی ٹرانسمیشن کنٹرول کرنا، ملک کے صحت کے نظام کو بہتر کرنا ، مریضوں کے ٹریس او ر آئسولیٹ کر نا ، ہاٹ سپاٹ میں کورونا کے رسک کو کم کیا جانا، تمام مقامات پر حفاظتی اقدامات اپنا شامل ہے۔ 

مگر پاکستان ان نکات پر پورا نہیں اتر لیکن پھر سے لاک ڈاؤن کھول دیا گیا ۔یہاں پرلیے جانے والے سمپلز میں پوزیٹو کیسزکی شرح 24 فیصد ہے جبکہ اسے 5 فیصد ہونا چاہیے،مریض کو ڈھونڈنے اور اسے آئیسولیٹ کرنے کا نظام کمزور ہے،پاکستان میں صرف 751 وینٹی لیٹر دستیاب ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاکہ ان کو لیٹر موصول ہو گیا ہے اور اس حوالے سے پنجاب حکومت سے مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے کہاہے کہ ڈبلیو ایچ او نے ٹھیک کہا، خط کابینہ میں پیش کرینگے۔

ان کا مزیدکہناتھاکہ جن علاقوں میں کورونا کیسزبڑھیں گے وہاں لاک ڈاؤن کرنا پڑیگا، لاک ڈاؤن کا فیصلہ کابینہ کمیٹی کریگی، انہوں نے بتایا کہ صوبے میں اب تک کورونا کے 2لاکھ 99ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔  صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے لاہور میں ماہرین صحت کے ہراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 24گھنٹے میں 9ہزار 23 ٹیسٹ کیے گئے جبکہ اب تک کُل 2لاکھ 99ہزار 57 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

صوبائی وزیر صحت نے مزیدکہاکہ کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں سب سے متاثرترین شہر لاہور ہے جہاں 19ہزار 299افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔لاہور میں کورونا وائرس سے متاثرہونے والے کل مریضوں میں سے ایک تہائی مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔  راولپنڈی میں 3196، گوجرانوالہ میں 1767،ملتان میں 2261اور فیصل آباد میں 2765 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔دوسری جانب ہانگ کانگ کے اسٹڈی گروپ نے کورونا وائرس پاکستان کو ایشیا اور بحرالکاہل کا چوتھا خطرناک ملک قرار دیدیا ہے۔