مرزا ببن کی نوابیاں

میں اپنے دفتر میں کام کررہا تھا اچانک دروازہ ایک زوردار آواز کے ساتھ ایسے کھلا جیسے کوئی طوفان آگیا ہے اور پھر کھلے دروازے سے وہ آندھی کی مانند وارد ہوئے اور میز کے دوسری جانب رکھی ہوئی کرسی پر ڈھیر ہوگئے کچھ دیر ہانپتے رہے پھر میری جانب دیکھتے ہوئے بولے،”یار دنیا سے امانت، دیانت، صداقت کا جنازہ اٹھ چکا ہے

مرزا ببن کی نوابیاں

میں اپنے دفتر میں کام کررہا تھا اچانک دروازہ ایک زوردار آواز کے ساتھ ایسے کھلا جیسے کوئی طوفان آگیا ہے اور پھر کھلے دروازے سے وہ آندھی کی مانند وارد ہوئے اور میز کے دوسری جانب رکھی ہوئی کرسی پر ڈھیر ہوگئے کچھ دیر ہانپتے رہے پھر میری جانب دیکھتے ہوئے بولے،”یار دنیا سے امانت، دیانت، صداقت کا جنازہ اٹھ چکا ہے،“ میں غور سے ان کی جانب دیکھ رہا تھا یہ جملہ سن کر میں نے کہا کہ جو یہ کہتے ہیں کہ دنیا سے امانت، دیانت اور صداقت کا جنازہ اٹھ چکا ہے درحقیقت ان کے اپنے ذہن ان چیزوں سے خالی ہوچکے ہیں۔

بات آگے بڑھانے سے قبل میں ان صاحب کا تعارف کرادوں، یہ نواب ببن علی مرزا لکھنوی میرے سکول فےلو ہیں، رنگت لاجواب پائی ہے کہ سنگھاڑے کو بھی شرمادیں، یہ آٹھویں جماعت سے ہی تعلےمی بھگوڑے ہےں پر ان کے ہمسایوں مےں ہی ان کی شادی ایک شریف النفس لڑکی سے ہو گئی تھی لیکن ان میں ایک خامی تھی کہ خاندانی نواب ہونے کا تصور انہیں کوئی چھوٹی موٹی ملازمت نہیں کرنے دیتا تھا، لہذا گھر میں اکثر فاقہ ہی رہتا، لیکن میں اکثر ان کی مالی معاونت کرتا رہتا تھا ایک روز مجھے ان کی بیگم کے انتقال کی خبر ملی تو میں افسوس کے لئے ان کے گھر حاضر ہوا جب گھر کے دروازے پر پہنچا تو دروازے پر لگا بورڈ دیکھ کر حیران ہوگیا جس پر لکھا تھا، ” نواب ببن علی مرزا لکھنوی B. A ۔ میں نے بورڈ کی تحریر پڑھتے ہوئے دروازے پر دستک دی تو نواب صاحب تشریف لائے اور مجھے دیکھ کر میرے گلے سے آلگے پھر مجھے اندر لے گئے۔ میں نے بیٹھنے کے بعد پوچھا کہ ببن میاں تم بی اے کیسے ہوگئے، تو بولے میاں ہماری بیگم سورگ باش ہوگئی ہیں نا۔ ”تو؟“ میں نے حیرانی سے پوچھا، وہ بولے ”تو کیا ہم بی اے یعنی بیچلر اگین ہوگئے۔ اس سے آپ ان کی فطرت کا اندازہ کرلیں، لباس میں وہ ہمیشہ طریزوں والا کرتا، نیچے چوڑی دار پاجاما اور سر پر دوپلی ٹوپی پہنے رہتے اوپر جسم پر ایک اچکن بھی ہوتی جو شائد سلائی کے وقت آف وائٹ رنگ کی ہو لیکن اب تو آف بلیک ہوکر رہ گئی تھی۔

بہرحال انہوں نے بات شروع کرتے ہوئے کہا کہ یار یہ عمران خان کو دیکھو کیا حماقتیں کررہا ہے، میں نے پوچھا، ”کیوں نواب صاحب ایسی کیا حماقت ہوگئی ان سے ؟ بولے ، ” دیکھو مریضوں کو بچانے کے بجائے عوام کو بھوک سے بچانے پر پیسے ضائع کررہا ہے، بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی؟ میں نے آہستہ سے کہا، ” نواب صاحب آپ اپوزیشن کی زبان استعمال کررہے ہیں، عمران خان جو بھی کررہے ہیں بالکل درست کررہے ہیں، دیکھیں اگر حکومت مکمل لاک ڈاﺅن نافذ کردے تو یقیناً کرونا کے پھیلاﺅ میں کچھ کمی آجائے گی لیکن یاد رکھیں یہ ختم نہیں ہوگا کیونکہ لاک ڈاﺅن کورونا کا علاج نہیں بلکہ اس کے پھیلاﺅ کی تیزی کو روکنے کا ایک طریقہ ہے۔ میری بات ختم ہونے سے قبل ہی وہ تڑاخ سے بولے، تو پھر ہم بھی تو یہی کہہ رہے ہیں نا کہ پہلے عوام کو بیماری سے تحفظ دینا فرض بنتا ہے یا انہیں مالی امداد دینا؟ مالی امداد لے کر تو وہ اس کو خرچ کرنے کے لئے گھروں سے باہر نکلیں گے اس طرح بیماری کو پھیلنے کا موقع مل جائے گا۔

میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا کہ ببن میاں یہ بتاﺅ تم نے صبح ناشتہ کیا ؟ سچ سچ بتانا ، انہوں نے نفی میں سر ہلادیا۔ میں نے پھر پوچھا کہ اگر حکومت کورونا کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے کرفیو نافذ کردیتی تو آپ مجھ تک تو نہ پہنچ پاتے اور گھر میں لیٹے لیٹے بھوک کا مقابلہ کرتے اور پھر خاموشی سے اپنی موت کا انتظار کرتے کیونکہ خوراک کے بغیر انسان زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ زندہ رہ سکتا ہے، اب آپ بتائیں کہ وہ لاک ڈاﺅن آپ کے لئے اچھا تھا یا یہ بارہ ہزار روپے تو غریبوں کو دئیے جارہے ہیں۔

میری بات سن کر وہ سوچ میں ڈوب گئے پھر بولے، ”یار ویسے کبھی کبھی تم بھی عقل مندوں کی سی بات کردیتے ہو، اور یہ یقیناً ہماری صحبت کا اثر ہے۔ میں یہ بات سن کر ہنس دیا اور جیب سے پانچ سو روپے کا نوٹ نکال کر ان کو دیا اور کہا کہ جاﺅ پہلے جاکر ناشتہ کرو اور یہ سیاسی باتیں سوچنا ترک کردو یہ تمہارا کام نہیں ہے۔ ببن مرزا میرے ہاتھ سے پانچ سو روپے کا نوٹ جھپٹ کر اٹھے اور جس طوفان کی طرح وہ آئے تھے اسی طوفانی انداز میں دفتر سے نکل گئے۔

چند روز بعد ببن میاں پھر ہمارے پاس آئے اور مجھ سے دس ہزار روپے قرض مانگے۔ انہوں نے یہ پہلی مرتبہ مجھ سے قرض مانگا تھا اس لئے ان کو دس ہزار روپے دے دئیے۔ اور وہ روپے لے کر چلے گئے۔ چند روز بعد ان کا فون آیا وہ مجھے اپنے گھر بلا رہے تھے۔  دفتر سے فارغ ہوکر میں ان کے گھر گیا اور دروازے پر نیا بورڈ دیکھ کر حیران ہوگیا لکھا تھا نواب ببن علی مرزا M.A بہرحال انہوں نے آکر دروازہ کھولا اور خود ہی بولے، یار تم ایم اے دیکھ کر حیران نہ ہونا اصل میں آئی ایم میریڈ اگین یعنی ہم نے دوسری شادی کرلی ہے، تو ایم اے تو ہوگئے نا، وہ مجھے ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئے اور ایک چارپائی پر بیٹھ کر انہوں نے بلند آواز سے کہا، مہر النساء ذرا چائے سے تواضع تو کریں اور تھوڑی دیر بعد کمرے میں چاند کا ٹکڑا داخل ہوگیا ہاتھوں میں چائے کے کپ تھامے ہوئے میں یک دم حیران ہو کر اس جوڑی کو دیکھنے لگا جو دن اور رات کا حسین امتزاج تھا۔

بہرحال چائے کی پیالی تھامنے سے قبل مجھے نئی نوےلی دُلہن کے ہاتھ میں ایک ہزار کا نوٹ رکھنا پڑا کیونکہ ہماری یہی روایت ہے کہ نئی نویلی دلہن کو دیکھ کر اس کے ہاتھ پر کچھ رقم رکھ دیتے ہیں اور اس کے بعد میں چائے پی کر واپس آگیا مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس شادی پر ببن مرزا کی قسمت پر رشک کروں یا اس بدنصیب دُلہن کے مقدرپر افسوس کروں۔