وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اجلاس منعقد

س میں پنجاب کے نئے بلدیاتی قانون کے تحت اختیارات اور اثاثہ جات کی منتقلی کے عمل پر غوروخوض اور مشاورت کی گئی

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اجلاس منعقد

لاہور: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اجلاس منعقد ہوا جس میں پنجاب کے نئے بلدیاتی قانون کے تحت اختیارات اور اثاثہ جات کی منتقلی کے عمل پر غوروخوض اور مشاورت کی گئی. اجلاس میں صوبائی وزیر ہاؤسنگ میاں محمود الرشید،صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب شوکت علی، سیکریٹری خزانہ محمد عبداللہ سنبل، ایڈیشنل سیکریٹری لوکل گورنمنٹ محمد ارشد اور دیگر افسران بھی شریک ہوئے. ایڈیشنل چیف سیکریٹری لوکل گورنمنٹ طاہر خورشید نیقرنطینہ کی وجہ سے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی.

وفاقی وزیر کو پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء پر بریفنگ دی گئی. شفقت محمودنے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام وزیر اعظم عمران خان کی اولیں ترجیحات میں شامل اور نچلی سطح پر عوام کو اختیارات کی منتقلی کا ضامن ہے. انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے لے کر اختیارات اور اثاثہ جات کی منتقلی کا عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہونا چاہیے. راجہ بشارت نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب کے نئے بلدیاتی قانون کی تیاری کے دوران متعدد اجلاسوں میں خود شرکت کی اور پنجاب حکومت کی بھر پور راہنمائی کی. انہوں نے کہا کہ نیا بلدیاتی قانون ہر لحاظ سے جامع اور عوامی امنگوں کے عین مطابق ہے. انہوں نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام میں تعلیم، صحت اور ہاؤسنگ سمیت متعدد شعبے لوکل گورنمنٹ کے پاس چلے جائیں گے.

راجہ بشارت نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام کو زیادہ سے زیادہ مفید اور عوام دوست بنانے کے لیے ضروری قانونی ترامیم بھی کی جا رہی ہیں. ایڈیشنل چیف سیکریٹری لوکل گورنمنٹ طاہر خورشید نے کہا کہ اختیارات اور اثاثہ جات کی تقسیم اور منتقلی کے عمل پر کام جاری ہے. انہوں نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام کو وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق ڈھالنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بلدیاتی اداروں کے ملازمین کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تربیت دی جا رہی ہے اور محکمے کے بارہ شعبوں کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے۔