کوویڈ 19کے باعث تعطل کا خدشہ، پنجاب حکومت کانومبر کی انسداد پولیو مہم بھرپور انداز میں کامیاب بنانے کا فیصلہ

آئندہ مہم میں پانچ سال سے کم عمر کے دو کروڑ81ہزار بچوں کو پولیو ویکسئن کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر انسداد پولیو مہم میں مسڈ بچوں کی کوریج پرخصوصی توجہ دی جائے، صوبائی وزیر صحت کی ہدایت  پولیو کے خاتمے کیلئے قومی جذبے سے کام کرنا ہوگا، مائیکرو پلان پر عمل نہ کرنے والی ٹیموں کیخلاف کارروائی کی جائے: چیف سیکرٹری

کوویڈ 19کے باعث تعطل کا خدشہ، پنجاب حکومت کانومبر کی انسداد پولیو مہم بھرپور انداز میں کامیاب بنانے کا فیصلہ

لاہور : کوویڈ 19کے خطرہ کے باعث انسداد پولیو مہم میں ممکنہ تعطل کے پیش نظر پنجاب حکومت نے نومبر میں شروع ہونے والی مہم کو بھرپور انداز میں کامیاب بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔آئندہ مہم میں پانچ سال سے کم عمر کے دو کروڑ81ہزار بچوں کو پولیو ویکسئن کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔صوبے میں پولیو کے خاتمے کیلئے کئے جانیوالے اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے ایک اہم اجلاس صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی زیر صدارت چیف سیکرٹری آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری پنجاب،سیکرٹری پرائمری صحت،کمشنر،ڈپٹی کمشنرز لاہور اور متعلقہ افسران نے شرکت کی جبکہ ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ صوبے میں کوورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث انسداد پولیو مہم کو باقاعدگی سے جاری رکھنا شاید ممکن نہ ہو۔انہوں نے ہدایت کی کہ نومبر کی مہم کو بھرپور انداز میں کامیاب بنایا جائے اور مسڈ بچوں کی کوریج پرخصوصی توجہ دی جائے۔

 چیف سیکرٹری نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کیلئے قومی جذبے سے کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جن اضلاع میں پولیو وائرس کا زیادہ خطرہ ہے وہاں ہیومین ریسورس ماڈل اورمائیکروپلان کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مہم میں بچوں کی 100فیصد کوریج کو یقینی بنایا جائے اورمائیکرو پلان پر عمل نہ کرنے والی ٹیموں کیخلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انوائرنمنٹل سیمپلز میں پولیو وائرس کی موجودگی باعث تشویش ہے۔ چیف سیکرٹری نے کوویڈ19،پولیو، ڈینگی اور دیگر متعدی بیماریوں کیخلاف اقدامات کی مانیٹرنگ کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے سے متعلق بھی ہدایات جاری کیں۔ سیکرٹری پرائمری ہیلتھ نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ اکتوبر کی انسداد پولیو مہم میں کوریج کا تناسب 103فیصد رہا اورمقررہ ہدف ایک کروڑ92لاکھ کی بجائے ایک کروڑ 99لاکھ بچوں کو پولیو ویکسئن کے قطرے پلائے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ نومبر کی مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے دو کروڑ81ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔