محکمہ زراعت کی جانب سے 3ہزار310شکایات داخل کروائی گئیں

محکمہ ٹرانسپورٹ نے 2ہزار291گاڑیاں بند کیں محکمہ ماحولیات کے ائیر کوالٹی سانڈکس کے مطابق آج صبح شہر میں سموگ کا زیادہ سے زیادہ تناسب 200رپورٹ کیا گیا

محکمہ زراعت کی جانب سے 3ہزار310شکایات داخل کروائی گئیں

لاہور:لاہور میں سموگ کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ضروری ہے کہ شہری بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں ماسک کے استعمال کو یقینی بنائیں،ایسی تمام سرگرمیوں سے اجتناب کریں جو دھول مٹی اور دھوئیں میں اضافے کا سبب بن سکتیں ہیں۔ فضائی آلودگی کی موجودگی میں قدرتی طور پر رونما ہونے والی موسمی تبدیلیاں سموگ کا سبب بن رہی ہیں۔ بڑے شہر وں میں سموگ میں اضافے کاسب سے بڑا سبب ٹرانسپورٹ   سے پیدا ہونے والا دھواں ہے۔ پچھلے 24گھنٹوں میں لاہور میں فضائی آلودگی پر کنٹرول کے لیے دھواں چھوڑنے والی 270گاڑیاں بند کی گئیں۔ میڈیا کے ذریعے عوام سے اپیل ہے کہ سفر کے لیے الگ الگ سواریاں استعمال کرنے کی بجائے ایک سواری میں سفرکو ترجیح دیں۔ یاد رکھیں قدرتی آفات کے دوران احتیاط میں ہی تحفظ ہے۔ خاص کر اس وقت جب ملک میں کورونا کی دوسری لہر کا آغاز ہو چکا ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خرم شہزاد عمر نے آج مختلف محکموں سے سموگ پر کنٹرول کی کاروائیوں بارے بریفنگ کے دوران کیا۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز سموگ پر کنٹرول کی  کاروائیوں میں دھواں چھوڑنے والے مزید 338صنعتی یونٹ بند کیے گئے۔اٹھارہ گرفتاریاں عمل میں لائیں گئیں۔پابندیوں کی خلاف ورزی پر 1,929,144روپے کے جرمانے ہوئے۔ 87ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ محکمہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے 7نومبر سے اب تک دھول مٹی میں کمی کے لیے 11ہزار259علاقوں میں 944سڑکیں مرمت کی گئیں،تجاوزات کے خلاف 26شکایات درج ہوئیں اور 4,402,500روپے کے جرمانے وصول کیے گئے۔