پانی میں گھل کر غائب ہونے والی ’کاغذی بیٹری‘

پانی میں گھل کر غائب ہونے والی ’کاغذی بیٹری‘

سویڈن: دنیا بھر میں ایسے آلات کی تعداد بڑھ رہی ہے جو کم وقت یا ایک مرتبہ استعمال ہوتے ہیں اور اب ان کے لیے ازخود گھل کر ختم ہونے والی ماحول دوست کاغذی بیٹری تیار کرلی گئی ہے۔ اس سےماحول پر بیٹریوں کے منفی اثرات اور زہریلے کیمیائی اجزا کم کرنے میں بہت مدد ملے گی۔

اس سے کم بجلی خرچ کرنے والے سینسر، اسمارٹ لیبل والی اشیا، ٹریکنگ اور طبی آلات اور دیگر برقی پرزوں کو توانائی فراہم کی جاسکے گی۔ یوں کاغذی بیٹری پانی سے روبہ عمل ہوگی اور خاص وقت میں گھل کر ختم ہوجائے گی۔

سویڈن کی مشہور اپسالا یونیورسٹی کے سائنسداں پروفیسرگستاف نائسٹروئم اور ان کے ساتھیوں کی بیٹری میں ایک مربع سینٹی میٹر پر ایک سیل لگایا ہے۔ اس پر کاغذ پر چھاپی گئی تین روشنائیوں (انک) سے سرکٹ کاڑھا گیا ہے۔ کاغذی پٹی کو سوڈیئم کلورائیڈ میں ڈبویا گیا اور اس کے چھوٹے سروں میں سے ایک کو خاص موم میں ڈبویا گیا ہے۔

روشنائی میں گریفائٹ کا چورا لگایا گیا ہے جو بیٹری کے مثبت برقیرے یا کیتھوڈ کی تشکیل کرتے ہیں۔ دوسری قسم کی انک میں زنک کا سفوف ہے جو بیٹری کا اینوڈ یا منفی سرا بناتا ہے۔

کاغذ کے دونوں جانب سیاہ کاربن لگایا گیا ہے جو مثبت اور منفی برقیروں کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔ جب اس کاغذ پر پانی کی معمولی مقدار ڈالی جاتی ہے تو کاغذی بیٹری سے چارج جاری ہونے لگتا ہے اور بیٹری کام کرنے لگتی ہے۔ پھر برقیروں کو کسی بھی آلے سے جوڑ کر اسے بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔

عملی مظاہرے کے طور پر ماہرین نے اس سے لیکویڈ کرسٹل ڈسپلے اور ایک چھوٹی الارم گھڑی چلا کر دکھائی ہے۔ پانی کے دو مزید قطرے گرانے سے بیٹری اور بہتر ہوگئی اور مزید 20 سیکنڈ تک کام کرتی رہی۔ اس دوران بیٹری سے ایک اعشاریہ دو وولٹ کی ہموار بجلی خارج ہوتی رہی۔ جبکہ ایک عام سیل 1.5 وولٹ بجلی فراہم کرتا ہے۔ لیکن جب جب کاغذی بیٹری کی بجلی کم ہوئی اس پر مزید پانی ڈالا گیا اور ایک گھنٹے تک بھی بجلی ملتی رہی۔

استعمال کے بعد کاغذی بیٹری ازخود گھل کر ختم ہوجاتی ہے۔