حکومت کاعوام کی قیمتی اراضی کو جعلسازوں اور کرپٹ مافیا سے محفوظ رکھنے کیلئے اراضی ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے ایک بڑے منصوبے کا آغاز

 دیہی مواضعات کے اراضی ریکارڈ کی کمپوٹرائزیشن کا دائرہ کارپنجاب کے تمام 36 اضلاع کے تقریبا 25 ہزار مواضعات تک بڑھا دیا گیا سینکڑوں افراد تمام اراضی ریکارڈ سنٹروں سے شفاف خدمات کے ذریعے حکومتی خزانے میں ہر ماہ کروڑوں کی آمدن دے رہے ہیں

حکومت کاعوام کی قیمتی اراضی کو جعلسازوں اور کرپٹ مافیا سے محفوظ رکھنے کیلئے اراضی ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے ایک بڑے منصوبے کا آغاز

لاہور :محکمہ تعلقات عامہ پنجاب میں انٹرن شپ کے لئے آئے یونیورسٹی آف نارووال،یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب،سپیرئیر یو نیورسٹی اور ایم اے او کالج کے طلبہ و طالبات نے آج اراضی فردسنٹر ضلع کچہری لاہور کا معلوماتی دورہ کیا۔اس موقع پر انچارج اراضی فردسنٹر شاہد علیم نے انہیں اس پراجیکٹ کے بارے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ اراضی ریکارڈ کی دیکھ بھال، متعلقہ انتظامی اموراور خدمات کی فراہمی میں درپیش مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے عوام کو اراضی اریکارڈ کی شفاف اور بہتر خدمات کی فراہمی کیلئے عالمی بنک کے تعاون سے اراضی ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے ایک بڑے منصوبے کا آغاز کیا تھا۔

ابتداء میں یہ منصوبہ 18اضلاع کے دیہی مواضعات کے اراضی ریکارڈ کی کمپوٹرائزیشن سے شروع کیا گیا، بعدازاں اسکا دائرہ کار بڑھا کر پنجاب کے تمام 36 اضلاع کے کم و بیش 25 ہزار دیہی مواضعات تک بڑھا دیا گیا جسکی تکمیل کیلئے پراجیکٹ کا دورانیہ تمام مجاز اتھارٹی بشمول ورلڈ بنک کی رضا مندی سے بڑھا کر جون 2016کر دیا گیا۔ بے شمار جزو اور لاتعداد محرکات سموئے یہ منصوبہ اپنی نوعیت کا واحد منصوبہ ہے جسکی تیاری اور عملدرآمد کیلئے پہلے سے کوئی طریقہ کار، نمونہ جات یا مثال وضع نہ تھی۔ تاہم صدیوں سے رائج اس نظام کی تبدیلی، دہائیوں پر محیط ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن اور خدمات کی فراہمی کیلئے متعلقہ ماہرین کے زیر سرپرستی، بے شمار تجربات اور تحقیق کی روشنی میں اس منصوبہ کو کامیابی سے عملی جامہ پہنایا گیا۔اس سلسلے میں سب سے پہلے مربوط، جامع اردو کا ایک نیا سافٹ وئیر تیار کیا گیا جس میں ریونیو سے متعلقہ اصولوں اور ضروریات کے پیش نظر ریکارڈ کو محفو ظ کرنے اور قانونی طریقے سے مجاز تبدیلیاں کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

بعدازاں تمام اضلاع سے موجود ہ و درینہ ریکارڈ کی بازیابی، عکس بندی اور ڈیٹا کا اندارج،اغلاط کی نشاندہی تصحیح کرنے کے ساتھ ساتھ ہر تحصیل میں اراضی ریکارڈ سنٹر کی تعمیر / قیام، مشینری و آلات کی تنصیب، ہزاروں افراد پر مشتمل عملہ کی بھرتی اور عوام کیلئے قانون گوئی کی سطح پر اجلاس کے ذریعے آگاہی جیسے مراحل سے گزرتے ہوئے مارچ 2016 میں اس منصوبہ کو طے شدہ تفصیلات کے مطابق مکمل کیا گیا۔ اس ضمن میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اتنے بڑے منصوبے کی تکمیل کسی فرد واحد کی کاوش نہیں بلکہ حکومت کی بے انتہا دلچسپی اور زیر سرپرستی تمام اداروں کے تعاون اور نجی کمپنیوں کی خدمات / آؤٹ سورسنگ سے اس عظیم منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ہے۔ جسکی بدولت آج ہر روز سینکڑوں افراد صوبہ بھر میں قائم اراضی ریکارڈ سنٹروں سے شفاف خدمات حاصل کر رہے ہیں جو کہ ایک جانب عوامی فلاح کی جانب ایک اہم سنگِ میل اوردوسری جانب حکومتی خزانے میں ہر ماہ کروڑوں کی آمدن کا باعث ہے۔