وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ہفتہ کے روز یہاں ماڈل ٹاﺅن سی بلاک کے قریب واقع یوٹیلیٹی سٹور کا دورہ

دورہوٹیلیٹی سٹور کا وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ہفتہ کے روز یہاں ماڈل ٹاﺅن سی بلاک کے قریب واقع یوٹیلیٹی سٹور کا دورہ

لاہور: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ہفتہ کے روز یہاں ماڈل ٹاﺅن سی بلاک کے قریب واقع یوٹیلیٹی سٹور کا دورہ کیا۔ انہوں نے یوٹیلٹی سٹور میں دستیاب اشیائے خوردونوش کا جائزہ لیا۔ انہوں نے یوٹیلیٹی سٹور میں موجود گاہکوں سے اشیائے خورد و نوش کی دستیابی کے حوالے سے بات چیت بھی کی جس پر لوگوں نے سٹور میں اشیائے ضروریہ کی وافر دستیابی پر حکومت کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے یوٹیلیٹی سٹور انتظامیہ سے اشیائے ضروریہ کی سپلائی اور ڈیمانڈ کے حوالے سے درپیش مشکلات بارے بھی دریافت کیا۔اس موقع پر میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ رمضان المبارک کی آمد اور اس کے بعد بھی یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیائے خوردونوش میں کمی نہیں آنے دی جائے گی جبکہ مختلف وزراءاور حکومتی شخصیات روزانہ کی بنیادوں پر شہر میں موجود مختلف یوٹیلیٹی سٹورز کا دورہ کر رہے ہےں اور یوٹیلٹی سٹورز پر اشیائے خوردو نوش کی وافر مقدار میں فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے سنجیدہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔چینی کے مصنوعی بحران کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ چینی کا بحران پیدا کرنیوالوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا ئے گی۔قبل ازیں وفاقی وزیر نے گرلز ہائی سکول گوپال نگر مین فیروز پور روڈ میں پرائم منسٹر احساس کفالت سنٹر کا بھی دورہ کیا۔اس موقع پر شفقت محمود نے کہا کہ وہ یہاں حکومت کی طرف سے غریب و نادار افراد کی کفالت کےلئے قائم کئے جانیوالے سنٹر کی کارکردگی کا جائزہ لینے آئے ہیں تا کہ دیکھا جا سکے کہ اس کے ثمرات کس حد تک غریب عوام تک پہنچ رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ سنٹر ز پر مستحقین کو رقوم بغیر کسی رکاوٹ دی جا رہی ہےں‘ملک بھر میں 17 ہزار سنٹرز بنائے گئے ہیں اور ان سنٹرز پر سماجی فاصلوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے‘جو لسٹ بنائی گئی ہے اس کا ڈیٹا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 8171 کے ذریعے لوگ میسج کر کے اپنا نام درج کروا سکتے ہیں جس کے بعد نادرا مستحق لوگوں کی تصدیق کرتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ13 اپریل کو اہم اجلاس ہے جس میں فیصلہ ہوگا کہ کون سے شعبہ جات کھولنے ہیں ‘لوگوں کی معاشی صورتحال پر بھی ہمیں سوچنا ہے لیکن فی الحال لاک ڈاون برقرار رہے گا ۔