چیچک سے کووِڈ-19 تک

یہ 1796کی بات ہے جب ایک برطانوی ڈاکٹرEdward Jennerکے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ چیچک کی وبا کے دوران وہ کسان عام طور پر کم متاثر ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں میں انسانی چیچک سے مشابہہ بھینسوں سے منتقل ہونے والی بیماری Cowpox کے زخم موجو دہوتے ہیں

چیچک سے کووِڈ-19 تک

یہ 1796کی بات ہے جب ایک برطانوی ڈاکٹرEdward Jennerکے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ چیچک کی وبا کے دوران وہ کسان عام طور پر کم متاثر ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں میں انسانی چیچک سے مشابہہ بھینسوں سے منتقل ہونے والی بیماری Cowpox کے زخم موجو دہوتے ہیں۔ انہوں نے اس مشاہدے سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر انسان ایک بیماری سے ملتی جلتی بیماری کے جراثیم سے پہلے ہی واقف ہوجائے توشاید انسانی جسم میں اصل بیماری کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔ 

اس بات کا عملی ثبوت دینے کے لیےJennerنے ایک آٹھ سالہ بچے کے جسم میںCowPoxکے زخم سے نکلنے والا مواد داخل کیا ۔ اس کے نتیجے میں بچہ انسانی چیچک کی وبا کے دوران محفوظ رہا ۔اس تجربے کو ویکسینز کی دریافت کے پہلے تجربے کا درجہ حاصل رہا۔ اور اس بنیاد پرEdward jennerکوimmunologyکا موجہ کہا جاتا ہے اور اسی تجربے میں استعمال ہونے والا یاCowکے زخم سے نکلنے والا مواد دراصل دنیا کی پہلی ویکسین تھی۔

سائنسی تحقیق ایک مستقل عمل ہے، جس میں وقت کے ساتھ تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ ہر سائنسدان چاہتا ہے کہ اس کے تحقیقی تجربات اس سے پہلے کی گئی تحقیق کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور وزنی ہوں اور اس کے پرکھنے کی کسوٹی بھی ساتھ ہی ساتھ مزید سخت ہو ۔ ویکسینز کی تحقیق بھی اس عمل سے گزری اور بالآخر کئی وبائی بیماریوں کے خلاف طرح طرح کی ویکسنیز تیار کی گئیں جن کے باعث کئی بیماریاں مثلاً پولیو اور چیچک وغیرہ دنیا سے تقریباً ناپید ہوچکی ہیں۔

کووڈ۔19بھی چونکہ ایک عالمی وبا ہے۔ لہٰذا اس کا واحد اور مستقل حل اس کے وائرس سارز کووِڈ2 (Sars Cov 2)کے خلاف ویکسین میں ہی پنہاں ہے۔ عام طور پر ویکسین کی تیاری اور اس کی مکمل جانچ پڑتال میں کم ازکم تین سے چار سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے لیکن کووڈ۔19کی بگرٹی ہوئی صورت حال کے پیش نظر اس بیماری کی ویکسین کی تیاری میں کئی یونیورسٹیز سائنسی تحقیقاتی ادارے اور فارما سیوٹیکل انڈسٹریز نے کوئی90کے قریب ویکسنیز کی تحقیق اور تیاری کا عمل شروع کیا۔ 

 

ان میں سے تقریباً دس ویکسینز کی آزمائش انسانوں پر کی جارہی ہیں اور کوئی دوویکسنیز کی آزمائش کامیابی کے ساتھ مکمل ہوچکی ہے اور متعلقہ اداروں نے ان ویکسینز کی عام آبادی میں استعمال کی اجازت دے دی ہے۔اپنی اساسی اور بناوٹی نوعیت کے لحاظ سے کووڈ۔19کی ویکسنیز بنیادی طور پر چار اقسام کی ہیں۔

اِن ایکٹیوئیڈوائرل ویکسین

Inactivated Viral Vaccines

یہ ویکسینز سارز کووِڈ 2 کےوائرس کی مکمل Inactivation سے بنائی گئی ہے بنیادی طور پر ان ویکسینز کی تیاری میں سارز کووِڈ2کے وائرس کی تجربہ گاہ میں انسانی خلیات میں افزائش نسل کی گئی ہے اور پھر ان سے حاصل ہونے والے وائرس کی افزائش نسل کی صلاحیت کو کچھ مخصوص کیمیکل کے ذریعے ختم کردیا گیا ہے لیکن ان کیمیکلز نے وائرس کی ساخت پر کوئی اثر نہیں ڈالا ہے ،جس کے باعث جب ان وائرس کو بطور ویکسین استعمال کیا جاتا ہے تو انسانی جسم اسے بطور زندہ وائرس مانتے ہوئے اپنے مدافعتی نظام کو اس کے خلاف تیار کرلیتا ہے۔ اس پیشگی تیاری کے نتیجے میں جب حادثاتی طور پر ماحول سے بیماری پیدا کرنے والا سارز کووِڈ 2بھی اگر انسان میں داخل ہوتو مدافعتی نظام اسے بیماری پیدا کرنے کا موقع نہیں دیتا۔

ان ویکسینز کی مثالوں میں چین میں بننے والی Sino.Vacوغیرہ شامل ہیں۔ عام طور پر ان ویکسنیز کو عام ریفریجریٹر میں محفوظ کیا جاسکتا ہے اور اس وقت اس ویکسین کی ایک خوراک کی قیمت مختلف ممالک میں دس سے ساٹھ امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ Sino Vacکی افادیت کا تحقیقی مقالہ شائع ہوچکا ہے، جس کے مطابق مختلف ممالک میں کووڈ۔19سے بچاؤ کا تناسب50 سے92فی صد ہے۔

ایم آر این سے بیسڈ ویکسین

m RNA based Vaccine

اس ویکسین کی تیاری میںسارز کووڈ وائرس کے جینیاتی مادّے(Rna)کا وہ حصہ استعمال کیا جاتا ہے جو کہ اس کی اسپائیک پروٹین (Spike protein)کو بناتا ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ وائرس انسانی خلیات سے اسی اسپائیک پروٹین کے ذریعے جڑتا ہے۔اس کوبنانے والے جنیاتی مادّے کے گرد مختلف کیمیکلزکی تہیں چڑھاکریہ ویکسین بنائی گئی ہے۔ 

اس ویکسین کے انسانی جسم میں داخل ہونے سے انسانی خلیات وائرس کی اسپائیک پروٹین کے ان اجزا کو بنانا شروع کردتا ہے جن کے خلاف انسانی مدافعتی نظام کام کرتا ہے۔لہٰذا جب اس ویکسین کے حصول کنندہ میں بیماری پیدا کرنے والا سارز کووِڈ 2وائرس داخل ہوتاہے تو مدافعتی نظام پہلے ہی سے اس کی اسپائیک پروٹین کے خلاف چوکنا ہوتا ہے ،جس کے باعث وائرس انسانی جسم پر حملہ آور نہیں ہوپاتا۔

Pfizer/Biontechکی کووڈ۔19کے خلاف بنائی گئی ویکسین کی بنیاد اسی اصول پر ہے ان ویکسینز کو انتہائی ٹھنڈے ماحول 20 سے 70 ڈگری میں محفوظ کیاجاتا ہے۔ ان ویکسنیز کی افادیت کے تحقیقاتی مقالے شائع ہوچکے ہیں جن کے مطابق یہ کووڈ۔19کے خلاف 95 فی صد تک تحفظ فراہم کرسکتی ہیں۔

اینڈینو وائرس بیسڈ ویکسین

Adenovirus based vaccines

اس ویکسین کی تیاری میںسارز کووِڈ2وائرس کے جینیاتی مادّے کے کچھ اہم حصے ایک اور وائرس اینڈینو وائرس میں داخل کردیے جاتے ہیں جن اینڈینو وائرس میں یہ حصے داخل کیے جاتے ہیں انہیں پہلے ہی جینیاتی طور پر اس طرح تبدیل کردیا جاتا ہے کہ وہ انسانوں میں کسی قسم کی بیماری یا کسی اور پیچدگی کا باعث نہ بن سکیں۔ 

لہٰذا جب اینڈینو وائرس کی ان ویکسنیز کو انسانی جسم میں داخل کیاجاتا ہے تو ہمارا مدافعتی نظام انہیں سارز کوو

ان ویکسینز کوعام ریفریجریٹرز میں محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں بننے والی ویکسین کی افادیت کا تحقیقی مقالہ شائع ہوچکا ہے ،جس کے مطابق یہ انسانوں کو62فی صد سے90فی صد کووڈ۔19سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

وائرل کمپونینٹ بیسڈ ویکسین

viral component based vaccines

ان ویکیسنز کی تیاری میں وائرس کے جینیاتی مادّے کے کچھ مخصوص حصوں مثال کے طور پر اسپائیک پروٹین بنانے والے جین کو بیکٹیریا میں داخل کیا جاتا ہے، جس کے باعث بیکٹیریاسارز کووِڈ2کی ان پروٹینز کو بنانا شروع کردیتا ہے۔ پھر ان پروٹینز کو بیکٹیریا سے کشید کرکے مختلف کیمیکلز کی تہوں سے ڈھانپ دیاجاتا ہے۔ جب اس طرح کی ویکسین کو انسانی جسم میں داخل کیا جاتا ہے تو ہمارا مدافعتی نظام اسے سارز کووِڈ 2وائرس کا حملہ تصور کرتا ہے اور اپنے خلیات کو تیار کرنا شروع کردیتا ہے۔

جب ان ویکسین کے حصول کنندہ میں بیماری پیدا کرنے والا سارز کووِڈ 2داخل ہوتا ہے تو اس پیشگی تیاری کے باعث انسان کووڈ۔19سے محفوظ رہتا ہے ۔ مختلف ممالک میں اس طرح کی ویکسین تجرباتی اور جانچ پڑتال کے مراحل سے گزر رہی ہے، جس کے بعد ہی ان کی افادیت کا صحیح اندازہ ہوسکے گا۔

یہ تمام ویکسینز انتہائی مضبوط تجربات اور سخت سائنسی جانچ کے بعد تیار کی گئی ہیں اور ان کے خلاف موجود سازشی نظریات مجموعی طور پہ لاعلمی یا کم فہمی کی بنیاد پربنائے گئے ہیں۔