جہانگیر خان پاکستانی عالمی نمبر 1 اسکواش کے کھلاڑی

دنیا میں مختلف کھیلوں میں کھلاڑی شہرت کی بلندیوں کو چھوتے رہے اور پھر ماضی کی تاریکیوں میں تحلیل ہوتے رہے اور ا ن کی جگہ نئے نئے کھلاڑی اپنا سکہ جماتے رہے لیکن بعض کھلاڑی ایسے ہیں جن کا نام ہمیشہ روشن آفتاب کی مانند چمکتا دمکتا رہے گا ایسے ہی ایک کھلاڑی جہانگیر خان ہیں جنہوں نے اسکواش کی دنیا میں وہ لازوال شہرت حاصل کی جس کی کوئی بھی تمنا کرسکتا ہے۔ یہ قومی ہیرو اور عالمی نمبر ون اسکواش کا چیمپئن10 دسمبر 1963ءکوکراچی میں پیدا ہوئے

جہانگیر خان پاکستانی عالمی نمبر 1 اسکواش کے کھلاڑی

تالیف:

دنیا میں مختلف کھیلوں میں کھلاڑی شہرت کی بلندیوں کو چھوتے رہے اور پھر ماضی کی تاریکیوں میں تحلیل ہوتے رہے اور ا ن کی جگہ نئے نئے کھلاڑی اپنا سکہ جماتے رہے لیکن بعض کھلاڑی ایسے ہیں جن کا نام ہمیشہ روشن آفتاب کی مانند چمکتا دمکتا رہے گا ایسے ہی ایک کھلاڑی جہانگیر خان ہیں جنہوں نے اسکواش کی دنیا میں وہ لازوال شہرت حاصل کی جس کی کوئی بھی تمنا کرسکتا ہے۔ یہ قومی ہیرو اور عالمی نمبر ون اسکواش کا چیمپئن10 دسمبر 1963ءکوکراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی گھر (نواں قلعہ ) پشاور تھا ان کے والد روشن خان خود بھی اسکواش کے معروف کھلاڑی تھے اور 1957ءمیں برٹش اوپن اسکواش ٹورنامنٹ جیت چکے تھے۔ روشن خان اپنے بڑے بیٹے طورسم خان کواسکواش کا عالمی چیمپئن بنانا چاہتے تھے اور ان کی تمام توجہ بھی انہیں پر مرکوز تھی کہ 26 نومبر 1979ءکو طورسم خان وفات پاگئے۔ طورسم خان کی وفات کے بعد روشن خان نے جہانگیر خان کو اسکواش کے مقابلوں کے لیے تیار کیاجنہوں نے اپریل 1981ءمیں پہلی مرتبہ برٹش اوپن اسکواش ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔

عالمی اعزاز

جہانگیر خان پہلے برس تو برٹش اوپن نہیں جیت سکے مگر اسی برس انہوں نے اپنے ہم وطن قمر زمان کو ورلڈ اوپن اسکواش ٹورنامنٹ کے فائنل میں شکست دے کر کامیابیوں اور کامرانیوں کے اس سفر کا آغاز کیا جس کی کوئی مثال اسکواش کی دنیا میں توکجا کھیلوں کی دنیا میں بھی دور دور تک نہیں ملتی۔ جہانگیر خان 1993ءتک اسکواش کی دنیا پر راج کرتے رہے اس دوران انہوں نے دنیائے اسکواش کی ہر بڑی چیمپئن شپ جیتی اور 1981ءسے 1986ءتک ہر مقابلے میں ناقابل شکست رہے۔ اپنے کیریئر میں انہوں نے دس مرتبہ برٹش اوپن اور چھ مرتبہ ورلڈ اوپن اسکواش ٹورنامنٹ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کا 6 مرتبہ ورلڈ اوپن اسکواش ٹورنامنٹ جیتنے کا ریکارڈ تو جان شیر خان توڑ چکے ہیں مگر ان کا 10 مرتبہ برٹش اوپن جیتنے کا ریکارڈ آج بھی برقرار ہے۔ جہانگیر خان کو اسکواش کی عالمی تنظیم ورلڈ اسکواش فیڈریشن کے آئندہ 4 سال کے لیے اعزازی صدر ر ہے، اس سے قبل بھی اسکواش کی عالمی تنظیم کے اعزازی صدر کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں واضح رہے کہ جہانگیر خان انٹرنیشنل اسکواش سرکٹ میں ایک ناقابل شکست کھلاڑی تصور کیے جاتے تھے جب کہ ان کے حوالے سے یہ بھی مشہور ہے کہ انہوں نے مسلسل 555 میچز میں کامیابی کو اپنے گلے لگایا۔ اس قومی ہیرو کی جگہ کو پُر کرنے والا بھی پاکستانی ہیرو جان شیر خان ہےں، ایک وقت تھا جب اوپن اسکواش چیمپئن شپ میں پہلے اور دوسرے نمبر کے کھلاڑی جہانگیر خان اور جان شیر خان ہوتے تھے لہذا انہیں تسلی ہوتی تھی کہ اب کوئی بھی جیتے سکواش چیمپئن شپ پاکستان میں ہی رہے گی، اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ جہانگیر خان کے بعد جان شیر خان نے اپنا کردار بخوبی نبھایا اور عالمی سطح پر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتے رہے۔ 28 نومبر 1981 کو دنیا صحیح معنوں میں جہانگیر خان کے نام سے آشنا ہوئی تھی جب وہ ٹورنٹو میں کھیلی گئی ورلڈ اوپن کے فائنل میں آسٹریلیا کے جیف ہنٹ کو شکست دے کر دنیا کے سب سے کم عمر ورلڈ چیمپیئن بنے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایک فاتح عالم کی طویل حکمرانی کا آغاز تھا۔ جہانگیر خان کے لیے ورلڈ چیمپیئن بننا دراصل ایک خواب کی تعبیر تھا جسے کسی اور نے نہیں بلکہ ان کے اپنے بڑے بھائی طورسم خان نے دیکھا تھا لیکن زندگی نے وفا نہیں کی اور جب جہانگیرخان ورلڈ چیمپیئن بنے تو وہ اس دنیا میں نہیں تھے۔اسے اتفاق کہیے کہ جس روز جہانگیر خان ورلڈ چیمپیئن بنے اس سے ٹھیک دو سال پہلے یعنی 28 نومبر 1979 کو طورسم خان کا انتقال ہوا تھا۔ وہ ایڈیلیڈ میں آسٹریلین اوپن کا میچ کھیلتے ہوئے سکواش کورٹ میں گر پڑے اور پھر بے ہوشی میں ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

کریئر پر بھائی کا گہرا اثر

جہانگیرخان کہتے ہیں کہ ان کے کریئر پر بڑے بھائی طور سم خان کا بہت گہرا اثر تھا۔ وہ انہی کے کہنے پر انگلینڈ میں ان کے پاس رہنے لگے تھے۔ طورسم خان کا خیال تھا کہ وہ انگلینڈ میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکواش بھی بہتر طور پر کھیل سکیں گے۔ جہانگیر خان کو یہ بات اچھی طرح یاد ہے کہ جب انہوں نے صرف پندرہ سال کی عمر میں ورلڈ امیچرا سکواش چیمپیئن شپ جیتی تو طورسم خان ان کے ساتھ آسٹریلیا میں نہیں تھے لیکن ہر میچ سے قبل انگلینڈ سے فون کر کے وہ ان سے بات کرتے تھے اور حریف کھلاڑی کے بارے میں معلومات ہونے کی وجہ سے وہ انہیں گائیڈ کرتے تھے کہ اس کے خلاف کس طرح کھیلنا ہے۔ جہانگیرخان کا کہنا ہے کہ طورسم خان ان کے لیے سب کچھ تھے یہی وجہ ہے کہ ان کی موت نے انھیں صدمے سے دوچار کر دیا تھا اور انھوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اب دوبارہ اسکواش نہیں کھیلیں گے۔

اسکواش کے سابق عالمی چیمپیئن جہانگیر خان کا بی بی سی کو 2017 میں دیا گیا انٹرویو

’باپ نے کہا میں دوسرا بیٹا کھونا نہیں چاہتا

طورسم خان کے انتقال کے بعد جہانگیر خان کی تربیت کی ذمہ داری ان کے چچازاد بھائی رحمت خان نے سنبھال لی تھی جو خود بھی پروفیشنل سکواش کھیل رہے تھے لیکن جہانگیرخان کے لیے انہیں اپنا کریئر ختم کرنا پڑا۔رحمت خان کا کہنا ہے کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے جب روشن خان نے ان سے کہا تھا کہ ایک بیٹا چلا گیا اب وہ دوسرا بیٹا کھونا نہیں چاہتے جس پر انہوں نے روشن خان سے کہا تھا کہ یہ طورسم خان کی خواہش تھی کہ جہانگیر ورلڈ چیمپیئن بنے اور ہمیں یہ خواہش پوری کرنی ہے۔ رحمت خان کا کہنا ہے کہ وہ جہانگیرخان کو ٹریننگ کے لیے اپنے ساتھ انگلینڈ لے جانا چاہتے تھے لیکن ائیرمارشل ( ریٹائرڈ ) نورخان کا خیال تھا کہ جہانگیر کو پاکستان میں ہی ٹریننگ کرنی چاہیے تاہم بعد میں انہوں نے انہیں اس بات کی اجازت دے دی کہ جہانگیرخان کو وہ اپنے ساتھ لے جائیں لیکن اس شرط پر کہ جہانگیرخان کو تین سال کے عرصے میں ورلڈ چیمپیئن بنانے کی ذمہ داری قبول کریں بصورت دیگر وہ قوم کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔

برٹش اوپن سے جذباتی وابستگی

عالمی چیمپیئن بننے کے پانچ ماہ بعد ہی جہانگیرخان نے برٹش اوپن کا ٹائٹل بھی پہلی بار ہدایت جہاں کو ہرا کر اپنے نام کرلیا۔ آنے والے برسوں میں یہ برٹش اوپن صرف اور صرف جہانگیرخان کے نام سے یاد رکھی جانے لگی جنہوں نے لگاتار دس سال یہ ٹائٹل جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ جہانگیرخان سے قبل سب سے زیادہ آٹھ مرتبہ برٹش اوپن جیتنے کا ریکارڈ آسٹریلیا کے جیف ہنٹ کا قائم کردہ تھا۔

جیف ہنٹ کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ جہانگیرخان مسلسل دس سال برٹش اوپن جیتیں گے یقیناً یہ ایک کارنامہ ہے۔ جہانگیرخان کا کہنا ہے کہ جب وہ جیف ہنٹ کے ریکارڈ کے قریب آرہے تھے تو پوری قوم کی توقعات میں بھی اضافہ ہوگیا تھا اور وہ بہت زیادہ دباو¿ محسوس کررہے تھے لیکن چونکہ برٹش اوپن سے ان کی جذباتی وابستگی ہوچکی تھی اس لیے وہ اس ٹورنامنٹ کے لیے سخت ٹریننگ کرتے تھے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آخری چار برسوں میں انہوں نے راڈنی مارٹن اور جان شیر خان کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔