فنڈز کی کمی کو سیاحت کے فروغ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے:  آصف محمود مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے سیاحت

 2 ہزار ہوٹلز، 3 ہزار ریسٹورنٹس، 14 ہزار ٹریول ایجنسیوں کی رجسٹریشن متوقع مشیر سیاحت کو محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ کے معاملات اور ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ

فنڈز کی کمی کو سیاحت کے فروغ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے:  آصف محمود مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے سیاحت

لاہور: مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے سیاحت آصف محمود کی زیرصدارت اجلاس میں محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ کے معاملات اور ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ ڈی جی ٹورازم کارپوریشن تنویر جبار، ایڈیشنل سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹری اور دیگر افسر بھی موجود تھے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیپارٹمنٹ آف ٹورسٹس سروسز (ڈی ٹی ایس) کے تحت صوبہ بھر میں مزید 2 ہزار ہوٹلز، 3 ہزار ریسٹورنٹس، 14 ہزار ٹریول ایجنسیوں کی رجسٹریشن متوقع ہے جس سے 410 ملین روپے کی آمدنی کا تخمینہ ہے۔

اس موقع پر مشیر سیاحت نے کہا کہ پنجاب بالخصوص لاہور میں عظیم الشان ثقافتی ورثہ موجود ہے لیکن بدقسمتی سے بعض تاریخی مقامات کی اہمیت سے مقامی افراد بھی آگاہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبرہ جہانگیر، نور جہاں سمیت دیگر آثار قدیمہ کی بحالی کا کام جاری ہے۔ آصف محمود نے کہا کہ سیاحت کو ریونیو جنریشن کا بڑا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ ٹورسٹس گائیڈز کی بھی تربیت اور رجسٹریشن کی جائے گی۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فنڈز کی کمی کو سیاحت کے فروغ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔ کوشش ہے کہ کورونا کے خطرے کے باوجود کوشش ہے کہ سیاحتی مقامات کو جلد از کھول جائے۔ وزیراعلی کی ہدایت پر ٹورازم اتھارٹی کے قیام پر قانون سازی کا کام جاری ہے۔ مشیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا سیاحت پر ویژن ضرور نافذ کریں گے۔

سیاحتی مقامات پر سیاحوں کو فرینڈلی ماحول فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی۔ اس موقع پر محکمہ آرکیالوجی کے ڈائریکٹر نے مشیر آصف محمود کو لاہور کے تاریخی مقامات پر کتاب پیش کی۔