کورونا وائرس: امریکہ میں خوف، یومِ پاکستان، ہولی سمیت کچھ تقریبات منسوخ

گذشتہ ہفتے میں پانی کی بوتل خریدنے دکان گیا اور یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ بوتلوں کے شیلف خالی تھے۔ بڑے سٹوروں میں ٹوکریاں خالی پڑی تھیں۔ آلو، گاجروں کا سٹاک بھی ختم ہو چکا تھا۔

کورونا وائرس: امریکہ میں خوف، یومِ پاکستان، ہولی سمیت کچھ تقریبات منسوخ

دکان میں کام کرنے والے افراد نے ماسک پہن رکھے تھے اور داخلی راستے پر ٹرالی کا ہینڈل صاف کرنے کے لیے جراثیم کش ٹشو بانٹ رہے تھے۔

دکان کے ملازم نے مجھے بتایا 'چیزیں سیکنڈوں میں غائب ہو رہی ہیں۔'

اس نے مجھ سے کہا کہ پانی کی بوتلیں حاصل کرنے کے لیے مجھے اگلی صبح دکان کھلنے کے وقت آنا پڑے گا۔ لیکن اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ مجھے پانی ملے گا۔

اگلی صبح بھی دکان لوگوں سے بھری ہوئی تھی اور سٹاک ہاتھوں ہاتھ بک رہا تھا۔

عالمی سطح پر کورونا وائرس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد میں اضافے اور چین کے بعد اٹلی میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے امریکہ کے کئی حصوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

چھبیس اموات اور 650 سے زائد کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز نے امریکیوں کو فکرمند کر دیا ہے۔ میرے سمیت بہت سے لوگوں کو ڈر ہے کہ اگر ہم باہر نکلیں گے تو وائرس کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔