غیرت کے نام پر قتل کا خدشہ: کوہستان کی لڑکی کو 17 مارچ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں عدالت نے حکام کو ضلع کوہستان سے تعلق رکھنے والی اس لڑکی کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے جس کے شوہر نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسے غیرت کے نام پر قتل کیا جا سکتا ہے۔

غیرت کے نام پر قتل کا خدشہ: کوہستان کی لڑکی کو 17 مارچ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم

ضلع کوہستان کے علاقے جل کوٹ کے رہائشی محمد ریاض نے پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ میں دائر کردہ درخواست میں کہا تھا کہ ان کی منکوحہ یاسلینہ کے خاندان والے اسے غیرت کے نام پر قتل کر سکتے ہیں کیونکہ ان سے ناجائز تعلقات کے شبہے میں ایک لڑکے کو پہلے ہی قتل کیا جا چکا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل اسجد عباسی کے مطابق منگل کو عدالت نے کوہستان کے ضلعی پولیس افسر کو حکم دیا کہ مذکورہ خاتون کو 11 مارچ کو عدالت میں پیش کیا جائے تاہم بدھ کو سماعت کے موقع پر پولیس حکام کی درخواست پر انھیں لڑکی پیش کرنے کے لیے 17 مارچ تک کی مہلت دے دی گئی۔

بدھ کو سماعت کے آغاز پر کوہستان پولیس نے معاملے کی سماعت کرنے والے جسٹس شکیل احمد اور جسٹس احمد علی پر مشتمل دو رکنی بینچ کے سامنے موقف رکھا کہ کوہستان بہت بڑا علاقہ ہے اور پولیس کے لیے ایک دن کے اندر لڑکی کو تلاش کرنا اور پیش کرنا ممکن نہیں اس لیے مزید وقت دیا جائے۔

اس پر عدالت نے کوہستان پولیس کو 17 مارچ تک کا وقت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ مقررہ تاریخ پر یاسبیلہ کو ہر صورت ان کے والد کے ہمراہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

سماعت کے موقع پر درخواست گزار کے وکیل محمد اسجد پرویز عباسی ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ لڑکی کی بازیابی میں تاخیر کی صورت میں کوئی بھی نقصان ہو سکتا ہے۔

اس پر عدالت نے پولیس کو یہ ہدایت بھی کی کہ ہر صورت میں لڑکی کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

جل کوٹ کے رہائشی محمد ریاض کا کہنا ہے کہ ان کی منکوحہ یاسلینہ بی بی کو چند ماہ سے ان کے والدین اور بھائیوں نے حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے اور خدشہ ہے کہ انھیں غیرت کے نام پر قتل کر دیا جائے گا۔

درخواست گزار کے مطابق تقریباً ایک سال قبل یاسلینہ بی بی پر سازش کے تحت ناجائز تعلقات کا الزام لگایا گیا تھا اور مقامی جرگے نے ان کی منکوحہ کو قصوروار ٹھہرایا تھا۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس الزام کے بعد ایک کم عمر طالبعلم رحم شاہ کو یاسلینہ بی بی سے مبینہ طور پر تعلقات رکھنے پر جرگے کے فیصلے کے تحت قتل بھی کیا گیا جس کا مقدمہ ریاست کی مدعیت میں درج ہے۔

محمد ریاض نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کی منکوحہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور انھیں عدالت میں پیش کرنے کے احکامات دیے جائیں۔

درخواست گزار محمد ریاض کے وکیل محمد اسجد پرویز عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس خدشے سے متعلق عدالت کے سامنے مزید شواہد پیش کریں گے کہ کیسے ایک انسانی جان خطرے میں ہے۔