جراثیم کو چن چن کر منٹوں میں مارنے والی نینو ڈرل مشین

ہیوسٹن، امریکہ: دنیا بھر میں جراثیم اور بیکٹٰیریا بہت تیزی سے دواؤں کو بے اثر بنارہی ہے اور اب جراثیم کو باقاعدہ طور پر شناخت کرکے ان پر حملہ کرکے طبعی طور پر انہیں مارنے کا ایک راستہ سامنے آیا ہے۔

جراثیم کو چن چن کر منٹوں میں مارنے والی نینو ڈرل مشین

اس کے لیے رائس یونیورسٹی کے سائنسداں، جیمز ٹور کی نگرانی میں ایک سالماتی (مالیکیولر) موٹر بنائی گئی ہے جو روشنی سے سرگرم ہوتی ہے۔ اگراس پر مناسب روشنی ڈالی جائے تو یہ ایک سیکنڈ میں 30 لاکھ مرتبہ گھومتی ہے۔ اس نینو ڈرل مشین کو جراثیم اور بیماری کے خلیات کے قریب لے جاکر انہیں باقاعدہ طبعی طور پر تباہ کیا جاسکتا ہے۔  تجربہ گاہ میں نینوڈِرل مشین نے ایک منٹ میں کئی جراثیم اور بیکٹیریا کو ہلاک کرڈالا۔

اس کے علاوہ ماہرین نے تجربہ گاہ میں ثابت کیا کہ نینوڈرل سے پانی میں موجود خردبینی کیڑوں، پلانکٹن اور دیگر حشرات کو مارا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کا ہدف وہ بیکٹیریا ہیں جو مزاحمت پیدا کرتے ہوئے لاتعداد اینٹی بایوٹکس کو ناکارہ بنا چکے ہیں۔ سائنسدانوں نے اس میں بھی کامیابی حاصل کی اور اردگرد کے صحت مند خلیات کو نقصان پہنچائے بغیر متاثرہ خلیات کو بھی تباہ کرنے کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔

اگرچہ یہ ڈرل مشین بہت چھوٹی ہے لیکن اتنی قوت ضرور رکھتی ہے کہ اس کا برما کسی خلئے کی دیوار میں سرایت کرکے اسے تباہ کرسکتا ہے۔ اس طرح بیکٹیریا اور خلیات کو ختم کرنے کا طریقہ ایک نئے انقلاب سے دوچار ہوسکتا ہے۔ چونکہ یہ ڈرل مشین جلد چھید سکتی ہے تو اسی بنا پر اسے جلد کے کینسر کی ابتدائی روک تھام میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ ڈرل مشین نہ صرف چھوٹے کیڑوں اور پانی کے خردبینی جانداروں کو مارسکتی ہے بلکہ پورے جاندار کو بھی ہلاک کرسکتی ہے۔ سائنسدانوں نینو موٹر کے تین مختلف ماڈل تیار کئے ہیں۔ مثلاً دوسری قسم کی موٹر سے پانی کے پلانکٹن ڈیفنیا کو مختلف انداز سے مارا یعنی پہلے اس کے بیرونی حصوں کو کاٹا اور اس کے بعد وہ پلانٹکن فنا ہوگیا۔

نینوڈرل سے ایکزیما اور جلد کے سرطان کا ابتدائی درجے میں علاج کرنا بھی ممکن ہوگا جبکہ دیگر بہت سے اطلاقات بھی سامنے آسکتے ہیں۔