اتناحاصل نہیں کرسکا جتنا کر سکتا تھا، اظہر محمود

اظہر محمود نے انیس سو چھیانوے میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور 2007 تک اکیس ٹیسٹ اور ایک سو تینتالیس ایک روزہ میچز کھیلے

 اتناحاصل نہیں کرسکا جتنا کر سکتا تھا، اظہر محمود

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر اور سابق بولنگ کوچ اظہر محمود نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کیرئیر میں اتنا کچھ حاصل نہیں کرسکے جو وہ کرسکتے تھے۔ ایک زمانہ تھا جب اظہر محمود اور عبدالرزاق کا شمار پاکستان کے بہترین آل راؤنڈرز میں ہوا کرتا تھا۔ اظہر محمود ایک موقع پر پاکستان کی قیادت کے بھی اُمیدوار بن گئےتھے لیکن پھر اچانک راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے آل راؤنڈر کا پرفارمنس گراف نیچے آنا شروع ہوا اور وہ دھیرے دھیرے پاکستان ٹیم کے دائرے سے باہر ہوگئے۔

اظہر محمود نے انیس سو چھیانوے میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور 2007 تک اکیس ٹیسٹ اور ایک سو تینتالیس ایک روزہ میچز کھیلے۔ انہوں نے 26 چھبیس سال کی عمر میں اپنا آخری ٹیسٹ اور 32 سال کی عمر میں آخری ون ڈےمیچ کھیلا۔ لندن سے جیو نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اظہر محمود نے اپنے کرکٹ کیرئیر اور کوچنگ کیرئیر پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے نوے کی دہائی میں پیدا ہونے والے میچ فکسنگ تنازعے پر بھی اپنی رائے کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم کے نوجوان بولرز کے ساتھ کوچنگ کا رول کافی انجوائے کیا اور آج جب ان پلیئرز کو پرفارم کرتا دیکھتا ہوں تو کافی اطمینان ملتا ہے۔

 اظہر محمود کہتے ہیں کہ ان کا کیرئیر ستانوے سے 2000 تک کافی اچھا گزرا اور پھر کپتانی کی باتیں ہوئی جو ان کی خواہش نہیں تھی، وہ کرکٹ پر فوکس کرنا چاہتے تھے لیکن اس کے بعد ان کا گراف نیچے آتا چلا گیا۔ سابق آل راؤنڈر نے کسی کو الزام دینے سے گریز کیا اور کہا کہ سب ہی دوست تھے اور انہوں نے کبھی کسی سے سوال نہیں کیا کہ وہ کیوں ٹیم سے ان ۔ آوٹ ہونے لگے۔ سابق آل راؤنڈر کے مطابق سن 2000 میں ان کو سنگاپور کے دورے سے قبل کپتان بنانے کی بات ہوئی لیکن پھر انہوں نے بھی یہی سمجھا کہ وقار یونس جیسے سینئرکپتانی کے زیادہ اہل ہیں۔

وقار یونس کپتان بننے سے پہلے ٹیم میں عدم تسلسل کا شکار تھے لیکن ان کے کپتان بننے کے بعد کسی ایک فاسٹ بولر کو بینچ پر بیٹھنا تھا اور اظہر محمود کو فاسٹ بولر بننا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی پر الزام نہیں لگا رہے، جو اُن کا نصیب تھا وہ انہوں نے حاصل کرلیا۔ 2001 میں آخری بار ٹیسٹ کھیلا اور اس کے بعد 2007 تک ون ڈے ٹیم میں کبھی ان اور کبھی آوٹ ہوتے رہے جس کی وجہ سےاُن کا پرفارمنس گراف بھی متاثر ہوا اوراس دوران وہ ذہنی تناؤ کا شکار بھی ہوئے اور خود کو اکیلا محسوس کرنے لگے۔

اظہر محمود نے کہا کہ 2003 میں ان کی شادی کے بعد اہلیہ نے ڈپریشن سے نکلنے اور مثبت سوچ دینے میں کافی اہم کردار ادا کیا، ساتھ ساتھ والدین بھی ہمیشہ کہتے تھے کہ ہمت نہ ہارو۔ سابق آل راؤنڈر جب کیرئیر کے عروج پر تھے تو ان دنوں پاکستان ٹیم میچ فکسنگ کے الزامات کی زد میں بھی تھی، اظہر محمود نے کہا کہ پاکستان کے پاس موقع تھا کہ نوے کی دہائی میں اس معاملہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیتے اگر اُس وقت ایسا ہوجاتا تو آج پھر سے اس اسکینڈل کی باتیں نہیں ہورہی ہوتیں۔