راجہ راشد حفیظ نے اپنے دفتر میں سول سوسائٹی کے نمائندگان سے ملاقات

تحریک انصاف کی حکومت نے خواندگی اور غیر رسمی تعلیم کے شعبے کو پہلی جامع پالیسی دے کران تر جیحات کا تعین کیا ہے جن سے ہماری شرح خواندگی سو فیصد ہو جائیگی

راجہ راشد حفیظ نے اپنے دفتر میں سول سوسائٹی کے نمائندگان سے ملاقات

لاہور:  پنجاب کے وزیر خواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم راجہ راشد حفیظ نے اپنے دفتر میں سول سوسائٹی کے نمائندگان سے ملاقات کے دوران بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے خواندگی اور غیر رسمی تعلیم کے شعبے کو پہلی جامع پالیسی دے کران تر جیحات کا تعین کیا ہے جن سے ہماری شرح خواندگی سو فیصد ہو جائیگی۔گذشتہ دو سالوں کے دوران دیہی و پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے 51ہزار سے زائد بچے غیر رسمی تعلیمی اداروں میں حصول علم کیلئے داخل کئے جا چکے ہیں جبکہ اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کو تعلیم دینے کیلئے تیس سے زائد سکول قائم کر دئیے ہیں جو غیر رسمی ہونے کے باوجود بچوں کو تمام سہولیات کے ساتھ زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔

محکمہ خواندگی کی دو سالہ کارکردگی کا اجمالی جائزہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خانہ بدوش خاندانوں کے بچوں کیلئے حصول تعلیم کے چودہ مراکز بنائے گئے۔خواجہ سراؤں کوعلم کا نور دینے کیلئے اب تک چھ مراکز قائم ہو چکے ہیں اور یہاں ایک سو سے زائد خواجہ سرا تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ راجہ راشد حفیظ نے کہا کہ پنجاب بھر کی جیلوں میں ہم نے ہمہ جہت مقاصد کے تحت ناخواندہ قیدیوں کو پڑھانے کیلئے غیر رسمی تعلیمی ادارے قائم کئے جہاں انڈر ٹرائل قیدیوں کی کم و بیش آٹھ ہزار کی تعداد تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو چکی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔جیلوں میں قائم سکولوں سے ہم دوہرے مقاصد حاصل کریں گے۔خواندگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ قیدیوں کی اصلاح کا پہلو بھی ہمارے مد نظر ہے جبکہ انہیں ہنر سیکھنے پر راغب کرکے معاشرے کا مفید شہری بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔