وزیر اعظم کے قوم سے وعدے : کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

محمد اویس رازی

وزیر اعظم کے قوم سے وعدے : کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

 اللہ سبحان و تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دعا ہے کہ وہ کرم فرمائے اور پاکستان و عالمِ اسلام سمیت ساری دُنیا کو کورونا کووِڈ19 وائرس کے مہلک اثرات سے مکمل طور پر نجات عطا فرمائے ۔ دُنیا رواں لمحوں میں کورونا وائرس کے سامنے جس بے بسی اور بیچارگی کا اجتماعی اظہار کرتی نظر آ رہی ہے ، ایسے میں ہم سب بس اللہ ہی سے کرم فرمائی کی دعا کر سکتے ہیں کہ انسان کاآخری سہارا ہمیشہ دعا ہی رہا ہے ۔ جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں ، دُنیا بھر میں کورونا وائرس کے مستند متاثرین کی تعداد 16 لاکھ کے ہندسے کو چھو رہی ہے اور اس وائرس کے مہلک وار کے کارن اموات88ہزارسے تجاوز کر چکی ہیں ۔ ان اعدادو شمار کو معمولی نہیں کہا جا سکتا ۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک میں سرِ فہرست اٹلی ہے اور پھر اسپین اور امریکہ کا درجہ شمار کیا جارہا ہے ۔ نیویارک جسے دُنیا کا ”معاشی دارالحکومت” کہا جاتا ہے ، اس وقت کسی گھوسٹ ٹاؤن کا نظارہ پیش کررہا ہے ۔ انتہائی طاقتور اور امیر ترین ملک قرار دئیے کے باوجود اطلاعات یہ ہیں کہ امریکہ میں مطلوبہ تعداد میں نہ تو وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں اور نہ ہی مطلوبہ تعداد میں ہسپتال اور ادویات ۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ کورونا وائرس کے مریض کی صحت یابی میں معاون سمجھی جانیوالی ایک دوائی ( کلوروکین) بھاری تعداد میں امریکہ نہ بھجوانے پر امریکی صدر نے بھارت کو دھمکی دے ڈالی ہے ۔ اگرچہ تازہ خبروں کے مطابق بھارتی وزیر اعظم” نرنیدر مودی” یہ دوائی امریکہ بھجوانے پر رضامند ہو چکے ہیں لیکن اس ایک مثال سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکہ ایسا ملک بھی کس مصیبت میں گرفتار نظر آرہا ہے ۔ ایسے میں پاکستان بارے تصور کیا جا سکتا ہے کہ ہم کس طرح کے سنگین مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ وطنِ عزیز میں یہ وبا مزید تیزی سے پھیل جاتی ہے ۔ کورونا سے بچاؤ کیلئے احتیاط اور دعا ہی ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہو سکتا ہے ۔پاکستان کی جو بھی معاشی حالت ہے ، ہم سب کے سامنے ہے۔ ہم تو اسقدر پست حالت میں ہیں کہ بنگلہ دیش میں پھنسے 300کی تعداد میں پاکستانی طلبا اور طالبات کو بھی واپس پاکستان نہیں لا سکے ہیں ۔یہ پاکستانی طالب علم ”سارک” کوٹہ کے تحت بنگلہ دیش کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں ۔ ہمارے یہ طلبا بے چارگی میں ڈھاکہ اور دیگر بنگلہ دیشی شہروں میں پھنسے کرلا رہے ہیں لیکن اُن کی پکار پر پاکستان کے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ۔ پاکستان کے ایک انگریزی روزنامہ نے اس بارے ایک تفصیلی رپورٹ شائع تو کی ہے لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت اس پورٹ پر کس طرح کے ردِ عمل کا اظہار کرتی ہے ۔ہماری اطلاع کے مطابق ترکی میں بھی پاکستانی پھنسے ہوئے ہیں جن کی نہ تو پاکستانی سفارتخانہ کوئی مدد کر رہا ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کوئی قابل قدر اقدام اٹھایا گیا دیکھنا یہ ہوگا کہ اب مصیبت کی گھڑی میں ترکی ہمارا کہاں تک ساتھ دیتا ہے۔ چین میں پھنسے سینکڑوں پاکستان طلبا اور طالبات کا تو چینی حکومت نے بہت خیال رکھا اور اس پر ہم ساری پاکستانی قوم حکومتِ چین کی مشکور بھی ہے لیکن بنگلہ دیش کی کمزور حکومت سے ہم اچھی توقعات نہیں رکھ سکتے۔ پھر پاکستان اور بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات بھی زیادہ مضبوط نہیں ہیں ۔ یہ ایک قابلِ رحم صورتحال ہے ۔انتہائی گنجان آبادی والا بنگلہ دیش ہمارے طلبا کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کے حکمران اس بارے مسلسل خاموش ہیں ۔ خود پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ساڑھے 4ہزار سے متجاوز ہو رہی ہے ۔ اس وائرس نے مبینہ طور پر جن پاکستانیوں کو موت کی وادی میں پہنچا دیا ہے ، اُن کی تعداد 6درجن سے بڑھ چکی ہے ۔ پچھلے ایک ہفتے کے اندر اندر اس تعداد میں کئی گنا اضافہ ہُوا ہے ۔ پاکستان میں موجود ایک مشہور چینی ڈاکٹر ( مامنگ ہوئی) سے منسوب خبر آئی ہے کہ ”پاکستان میں کورونا پھیلاؤ مصدقہ رپورٹوں سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔” اور اس کی وجہ پاکستان میں کورونا ٹیسٹ کٹس کی کمی ہے ۔ اگر یہ خدشات درست ہیں تو تشویش کا باعث ہیں ۔ یہ انتہائی الارمنگ صورتحال ہے ۔ اسی صورتحال کے دوران کوئٹہ میں انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے ۔ کوئٹہ کے ڈاکٹروں نے بجا طور پر بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے حفاظتی میڈیکل لباس دیئے جائیں اور کورونا وائرس کو ٹیسٹ کرنے کی کٹس بھی ۔ بجائے اس کے کہ ڈاکٹروں کے ان جائز مطالبات کو فوری طور پر پورا کیا جاتا، اُلٹا اُن پر تشدد بھی کیا گیا اور اُنہیں حوالاتوں کی ہوا بھی کھلائی گئی ۔ سارے ملک میں عوام نے بلوچستان حکومت کے اس روئیے پر تاسف کا اظہار کیا ہے ۔ ان آزمائش کے لمحات میں اگر ڈاکٹر بھی بیمار ہو جائیں گے تو پھر علاج کون کرے گا؟ چنانچہ سب سے پہلے تو ڈاکٹروں کی صحت ترجیحی معاملہ ہونا چاہئے ۔ وہ تو خدا بھلا کرے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کا جنہوں نے اس صورتحال کے پیشِ نظر فوری طور پر جہاز کے ذریعے مطلوبہ میڈیکل کا سامان کوئٹہ روانہ کیا ۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت کیا کررہی تھی اور بلوچستان حکومت نے اس پر مناسب ردِ عمل کیوں نہ دیا ؟ کسی کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔وفاقی دارالحکومت، اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹروں اور نرسوں نے بھی جو بپتا سنائی ہے ، وہ بھی اس امر کی غماز ہے کہ مہلک کورونا وائرس کے حوالے سے جن معمولی سہولتوں کی بھی ضرورت ہے ، مذکورہ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور نرسوں کو مہیا نہیں کی جارہی ہے ۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس معاملے میں وزیر اعظم صاحب کے مشیرِ صحت ، ڈاکٹر مرزا، بھی خاموش ہیں ۔ یوں لگتا ہے جیسے کورونا وائرس بحران میں پی ٹی آئی حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں ۔ اُس کا اسوقت تک کا سب سے بڑا کارنامہ ”کورونا ٹائیگر فورس” قرار دیا جارہا ہے ۔ اس پر بھی جو ردِ عمل آیا ہے ، عمران خان کی حکومت کو تشویش ہونی چاہئے اور اس منصوبے کو آگے بڑھانے سے باز آجانا چاہئے لیکن خانصاحب بھی اپنی ہٹ کے پکے سمجھے جاتے ہیں ۔ ٹائیگر فورس کی مخصوص شرٹس پر مبینہ طور پر جن کروڑوں روپوں کے اخراجات کی کہانی زیر گردش ہے، قوم کا اس پر افسوس کا اظہار کرنا جائز ہے ۔ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ کورونا کے اثرات تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں جس نے ملکی معیشت اور سماج پر بھی منفی اثرات مرتب کئے ہیں ۔ ایسے پریشان کن حالات میں وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے ایک بار پھر قوم کو وارننگ دی ہے کہ ممکن ہے کورونا وائرس کے حوالے سے جاری حالات میں مزید ابتری اور تیزی آ سکے اور اگر ایسا ہُوا تو یہ بھی امکان ہے کہ ملکی ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کے علاج کیلئے جگہ ہی نہ بچے ۔ یہ دھماکہ خیز بیان 9مارچ 2020ء کو سامنے آیا تو گویا ایک بھونچال ہی تو آگیا ۔ وزیر اعظم نے اسلام آباد میں اخبار نویسوں سے خطاب کرتے ہُوئے کہا:” جس طرح بیماری پھیل رہی ہے اور ہمیں خطرہ ہے کہ اس مہینے کے آخر میں کہیں ہسپتالوں میں جگہ کم نہ پڑ جائے۔ ابھی تک صرف 40 لوگ مرے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید ہمارے پاکستانیوں کی قوت مدافعت زیادہ ہے یا شاید ہمیں یہ بیماری اثر نہیں کرے گی۔ میں سب سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا کا واسطہ اس غلط فہمی میں نہ پڑیں کیونکہ یہ وبا بہت خطرناک ہے اور ہمارے لوگ یہ سوچ کر احتیاط نہیں کررہے کہ پاکستانیوں کو فرق نہیں پڑے گا۔ پاکستان میں جس طرح یہ وبا بڑھتی جا رہی ہے تو ہمیں خوف ہے کہ اپریل کے مہینے کے اختتام تک جن چار یا 5 فیصد لوگوں کو ہسپتال جانا پڑے گا، ان کی تعداد اتنی ہو جائے گی کہ ہمارے ہسپتالوں میں آئی سی یو یا شدید بیمار مریضوں کیلئے جگہ نہیں ہو گی۔ مذکورہ صورت میں ہم شدید بیمار لوگوں کا علاج کرنے سے قاصر ہوں گے اور ہمارے ہسپتالوں میں مطلوبہ تعداد میں وینٹی لیٹرز نہیں ہوں گے۔تین ہفتے قبل ہم نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد ہم نے اسکول، یونیورسٹیز کے بعد فیکٹریاں دکانیں وغیرہ بند کردی تھیں لیکن یورپ، امریکا اور چین میں ہونے والے لاک ڈاؤن سے ہمارا لاک ڈاؤن مختلف ہے۔”انہوں نے کہا :” پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ یعنی تقریباً پانچ کروڑ افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں تو ہمیں لاک ڈاؤن کا یورپ اور چین کی طرح نہیں سوچنا چاہیے کیونکہ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اگر ہم ان کی طرح لاک ڈاؤن کریں گے تو اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ جو روزانہ دیہاڑی کمانے والے ہیں، رکشہ چلانے والے، چھابڑی والے اور دکاندار وغیرہ ہیں ان پر لاک ڈاؤن کا سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے کیونکہ وہ سارا دن دیہاڑی کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ اس لیے ہم نے کوشش کی کہ کسی طرح سے توازن قائم ہو جائے، لاک ڈاؤن بھی ہو تاکہ بیماری نہ پھیلے اور اس کمزور طبقے پر بھی بوجھ نہ پڑ جائے اور یہی وجہ ہے تمام صوبوں اور وفاق کا ردعمل مختلف تھا۔ امریکا جیسے ملک میں بھی مختلف ریاستوں میں مختلف رویہ ہے، کئی نے پورا لاک ڈاؤن کردیا ہے، کئی نے جزوی لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے، یورپ میں بھی سویڈن نے مختلف اقدامات کیے ہیں جبکہ جرمنی، اسپین اور اٹلی نے مختلف اقدامات کیے ہیں۔” اُنہوں نے کہاکہ ہم نے اپنے زراعت کے شعبے میں لوگوں کو کام کرنے دینا ہے کیونکہ ہمیں یہ بھی دھیان رکھنا ہے کہ ہمارے 22 کروڑ لوگ ہیں، جنہیں ہمیں کھانا پینا بھی مہیا کرنا ہے، خصوصاً اب گندم کی کٹائی شروع ہو چکی ہے تو ہم نے دیہاتوں میں کہا ہے کہ کوئی لاک ڈاؤن نہیں ہے۔ ہم نے اصل لاک ڈاؤن شہروں میں کیا ہے، اب شہروں میں بھی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں کہ لوگوں کے حالات برے ہیں، مزدوروں اور دیہاڑی کمانے والوں کے برے حالات ہیں تو اس کی وجہ سے ہم نے فیصلہ کیا کہ شعبہ تعمیرات کو کھول دیا جائے تاکہ لوگوں کو نوکریاں ملیں۔” خانصاحب نے مزید کہا:” اس وقت ہمارا سب سے بڑا چیلنج ہے کہ ہم اپنے سب سے غریب طبقے کا کیسے خیال رکھیں تو اسی سلسلے میں ہم احساس پروگرام کو تیز کرنے جا رہے ہیں۔ احساس پروگرام میں ساڑھے 3 کروڑ لوگوں نے درخواست دی ہے کہ وہ انتہائی غریب ہیں اور ان کی مدد کی جائے ۔ اس پروگرام میں کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہے۔ اس نظام میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا اور یہ نادرا کی جانب سے فراہم کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر خودکار نظام کے تحت میرٹ پر چل رہا ہے۔اس پروگرام کے تحت ہر خاندان میں ایک فرد کو 12ہزار روپے دیے جائیں گے اور پورے پاکستان میں 17ہزار جگہیں ایسی بنائی گئی ہیں جہاں سے یہ پیسہ تقسیم کی جائے گا جس کے تحت اگلے دو سے ڈھائی ہفتے میں ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو یہ پیسہ دیا جائے گا۔ مشکلات ضرور آئیں گی کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں اتنا بڑا پروگرام کبھی نہیں دیا گیا ۔ اس میں جو بھی مشکلات آئیں گی تو ہماری ٹیمیں بیٹھی ہوئی ہیں جو اس کا جائزہ لے گی اور جہاں بھی ہمیں اس میں بہتری یا تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوئی تو ضرور تبدیلی کریں گے۔ ” اُنہوں نے اپنی ٹائیگر فورس کا ذکر بھی کیا:”ہم نے ٹائیگر فورس شروع کی ہے، انہیں ہم ذمہ دار بنائیں گے کہ وہ اضلاع اور اپنے علاقوں میں جا کر دیکھیں کہ کس کو ضرورت ہے اور ان لوگوں کو دیکھیں جو ایس ایم ایس نہیں کر سکے اور پھر اسی سسٹم میں ان کا نام شامل کردیا جائے گا۔ ہم اگلے ڈھائی ہفتے میں 144ارب روپے نچلے طبقے تک تقسیم کردیں گے اور اگر اس کے بعد بھی لوگ بچے تو اس کے لیے مخیر حضرات سے ریلیف فنڈ کی درخواست کی ہے۔ اس فنڈ میں سے ان لوگوں میں رقم تقسیم کی جائے گی۔”کہنے کو تو وزیر اعظم کا یہ بیانیہ خوب ہے لیکن اس بیانیے کا تجزیہ کرتے ہُوئے ہمیں یہ بات ایک بار پھر پریشان کررہی ہے کہ ہلاکت خیز کوروناوائرس کی موثر انداز میں روک تھام کیلئے حکومت کی طرف سے کوئی واضح لائحہ عمل سامنے آنے سے قاصر ہے ۔ شائد اسی وجہ سے ”الجزیرہ” کے ایک تجزیہ کار ( ٹام حسین) نے بھی لکھا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے کورونا وائرس کے حولے سے کسی واضح پالیسی پیش نہ کئے جانے پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بھی پریشان ہے اور اسی کارن پاک فوج کو از خود کورونا وائرس کے خلاف محاذ قائم کرنے کیلئے میدانِ عمل میں اترنا پڑا ہے ۔ ”الجزیرہ” کے مذکورہ تجزیہ نگار نے اس حوالے سے خانصاحب حکومت کی ناکامیوں بارے بہت سی تلخ باتیں بھی رقم کی ہیں لیکن ہم اس کا ذکر یہاں نہیں کریں گے ۔ایک خبر کے مطابق، پاکستان میں وزیر اعظم کے حکم کے مطابق 9اپریل2020ء سے مستحقین میں 12ہزار روپے فی خاندان یا فی فرد تقسیم کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اس کی تحسین کی جانی چاہئے لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان کب تک یہ معمولی سی بھی امداد اپنے مستحقین میں تقسیم کرتا رہے گا؟ اس سوال سے جڑا ایک اور سوال سب کیلئے پریشنان کن ہے کہ اس امداد کے پردے میں کرپشن اور فراڈ کی وارداتوں کو کون روکے گااور کیسے روکا جا سکے گا؟ یہ مصدقہ خبریں تو بہرحال ہمارے میڈیا میں بھی آ چکی ہیں کہ کئی فراڈئیے حکومت اور خیراتی اداروں سے خشک راشن لے کر سستے داموں بازار میں فروخت کرتے پائے گئے ہیں ۔ ہم کرپشن اور بد اخلاقی کے ان نئے مناظر پر بس دکھ اور رنج ہی کا اظہار کر سکتے ہیں ۔ لیکن قوم کے بڑے جب کرپشن اور بدعنوانی کی دلدل میں لتھڑے نظر آئیں گے تو ایسے ملک میں ایسی چھوٹی چھوٹی چوری اور بداخلاقی کی وارداتوں پر سینہ کوبی کو کہاں وقت ملتا ہے ؟ ہم سب تو ابھی ایف آئی اے کی نگرانی میں سامنے آنے والی آٹا چینی کرپشن کی تحقیقاتی اور ہیجان خیز رپورٹ کے سناٹے میں ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان کے کئی ساتھی اور اتحادی بھی اس شرمناک سکینڈل میں ملوث پائے گئے ہیں اور وزیر اعظم صاحب بس یہ کہتے ہُوئے سنائی دے رہے ہیں کہ 25اپریل کو فرانزک رپورٹ آئے گی تو پھر مبینہ ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی کروں گا۔ کسی ستم ظریف شاعر نے شائد ایسے ہی لمحات کیلئے کبھی کہا تھا "کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک".