مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیائی ممالک اخراجات کم کریں، سرکاری قرضی اقتصادی بحالی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں،آئی ایم ایف

مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیائی ممالک اخراجات کم کریں، سرکاری قرضی اقتصادی بحالی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں،آئی ایم ایف

دبئی :بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیائی ممالک اپنے اخراجات میں کمی کریں بصورت دیگر کورونا وائرس کی وبا کے باعث بڑھ جانے والے ان کے حکومتی قرضے اقتصادی بحالی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

رائٹرز نے آئی ایم ایف کے شعبہ برائے مشرق وسطیٰ و سینٹرل ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد آزر کے گزشتہ روز جاری بیان کے حوالے سے بتایا کہ موریطانیہ سے قزاخستان تک خطے میں 30 کے قریب ایسے ممالک ہیں جن کی اقتصادی ترقی میں 2020 ءکی تیسری سہ ماہی میں انسداد کورونا اقدامات کے باعث بہتری آئی، تاہم صورتحال اب بھی انتہائی غیر یقینی ہے کیونکہ اس میں بہتری کا انحصارکورونا ویکسینیشن کی رفتار،وبا سے متاثرہ شعبہ سیاحت کی بہتری اور مالیاتی پالیسیوں پر ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ان علاقوںمیں اقتصادی بحالی کا عمل شروع ہوچکا ہے تاہم یہ ناہموار اور غیر یقینی ہے بالخصوص ان ملکوں کے لیے جہاں کورونا وائرس سے قبل کے بیش بہا قرضے اور دیگر مسائل ابھی تک موجود ہیں۔فنڈ کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسینیشن میں پہل کرنے والے خلیجی ممالک ، قزاخستان اور مراکش کی مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی ) آئندہ سال تک 2019 ءکی سطح پر پہنچ جائے گی جبکہ دوسرے ملکوں کو یہ مرحلہ طے کرنے میں مزید ایک سال کا وقت درکار ہوگا۔علاقائی معاشی جائزے کے تناظر میں فنڈ کا کہنا ہے کہ زیادہ مالیاتی ضروریات پالیسی سازی کی گنجائش کم کرسکتی ہے۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی ملکوں میں 2020 ءمیں کورونا وائرس کی وبا کے باعث مصنوعات کی طلب اور قیمتوں میں ہونے والی کمی ان کی آمدنی میں کمی کا باعث بنی جس سے ان کی مجموعی قومی پیداوار کے خسارے کی شرح 2019 ءکی سطح 3.8 فیصد سے کم ہوکر گزشتہ سال 10.1 فیصد تک پہنچ گئی۔بحران سے متاثرہ کئی ملکوں میں قرضوں میں اضافے کا رجحان بڑھا جسے وہ انسداد کورونا اقدامات کے لیے کرسکتے ہیں ۔

آئی ایم ایف نے متنبہ کیا کہ آئندہ دو سال کے دوران عالمی سطح پر مالی ضروریات بڑھ سکتی ہیں بالخصوص ابھرتی منڈیوں میں22۔ 2021ءمیں اس کی ضرورت بڑھ کر 1.1 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو19۔ 2018ءمیں 784 ارب ڈالر تھی،یہ مالیاتی عدم استحکام کی نشاندہی ہے جس سے اقتصادی ترقی کا عمل سست ہوسکتا ہے