میاں اسلم اقبال کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد،لوگوں کے مسائل سنے، اور بعض مسائل کے حل کیلئے متعلقہ محکموں کو ہدایات دیں

پی ڈی ایم کی چھتری تلے اکھٹے ہونے والے لٹیروں کاایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمارے کیسز ختم اور نیب کے ادارے کو بند کیا جائے اور ہماری لوٹ مار کے بارے نہ پوچھا جائے:صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال ن

میاں اسلم اقبال کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد،لوگوں کے مسائل سنے، اور بعض مسائل کے حل کیلئے متعلقہ محکموں کو ہدایات دیں

لاہور :صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی چھتری تلے اکھٹے ہونے والے لٹیروں کاایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمارے کیسز ختم اور نیب کے ادارے کو بند کیا جائے اور ہماری لوٹ مار کے بارے نہ پوچھا جائے، ان کی شکلوں سے بھوک ٹپک رہی ہے، اقتدار میں آکر یہ قومی وسائل سے بھوک مٹاتے رہے، اب ایسا نہیں ہوگا، عوام انہیں پہچان چکے ہیں۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے یہ بات آج اپنے کیمپ آفس میں کھلی کچہری کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

صوبائی وزیر نے مسلسل 3 گھنٹے تک لوگوں کے مسائل سنے اور بعض مسائل کے حل کیلئے متعلقہ محکموں کو ہدایات دیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن معیشت کی خرابی کا رونا روتی ہے، وزیر اعظم عمران خان نے ملک کی معیشت کو تو درست سمت میں ڈال دیا ہے لیکن جن کی معیشت خراب ہوئی ہے وہ پی ڈی ایم کی چھتری تلے اکھٹے ہوگئے ہیں. صوبائی وزیر نے کہا کہ لاہور شہر کی صفائی کے حوالے سے کافی مسائل آرہے تھے، دو غیر ملکی کمپنیاں صفائی کے امور دیکھ رہی تھیں اور انکا معاہدہ ختم ہوگیا تھا، 2009تک شہر کی صفائی پرایک ارب روپے خرچ ہورہے تھے۔

سابق حکومت کے غلط معاہدوں کی وجہ سے لاہور کی صفائی پرسالانہ 18ارب سے زائد خرچ کئے جارہے تھے اور ادائیگی بھی ڈالروں میں ہورہی تھی، اب یہی کام لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نصف رقم میں کرے گی۔کمپنی کو 15 جنوری تک شہر لاہور سے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر اٹھا نے کا ہدف دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں کے غلط معاہدوں کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر زیرو ویسٹ کی حکمت عملی بنا لی ہے اور طے کر دہ ہدف مقررہ مدت میں حاصل کریں گے۔

لاہور کی 272یونین کونسلوں میں مربوط انداز سے صفائی کا کام تیزرفتاری سے کیا جائے گا، کاغذات میں 14ہزار ورکرز دکھائے جارہے تھے، حقیقت میں ایسا نہیں تھا، اب تمام ورکز کو فیلڈ میں لائیں گے اور صفائی کے نظام کو بہتر بنائیں گے۔چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ درآمدی چینی ختم ہونے سے یہ صورت حال پیدا ہوئی۔وفاقی حکومت کو پنجاب کی چینی کی ضرورت سے آگاہ کردیا ہے، چینی کی درآمد کے حوالے سے وفاقی حکومت سے معاملات جلد طے پا جائیں گے اور آئندہ چند روز میں چینی کی قیمتوں میں کمی آجائے گی۔