صوبہ پنجاب میں موثر پریس ایکٹ موجود ہوتا تو نصابی کتب میں متنازعہ مواد شامل کرنیکی کسی کو جرات نہ ہوتی : راجہ بشارت

افسوس کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد پنجاب کی سابقہ حکومت نے اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی , صوبائی وزیر قانون و سوشل یلفیئر

صوبہ پنجاب میں موثر پریس ایکٹ موجود ہوتا تو نصابی کتب میں متنازعہ مواد شامل کرنیکی کسی کو جرات نہ ہوتی : راجہ بشارت

لاہور:صوبائی وزیر قانون و سوشل یلفیئر راجہ بشارت نے کہا ہے کہ  اگرصوبہ پنجاب میں موثر پریس ایکٹ موجود ہوتا تو نصابی کتب میں متنازعہ مواد شامل کرنیکی کسی کو جرات نہ ہوتی لیکن افسوس کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد پنجاب کی سابقہ حکومت نے اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی. وہ آج   پنجاب اسمبلی کی سپیشل کمیٹی نمبر چھ کے دوسرے روزکے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے. اجلاس میں صوبائی وزیرتعلیم ڈاکٹر مراد راس، اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف، ارکان پنجاب اسمبلی میاں شفیع،محمد الیاس، معاویہ اعظم،مظفر علی شیخ، کاشف محمود اور طاہر خلیل سندھو، چئیرمین ُعلماء کونسل مولانا طاہر اشرفی، سیکرٹری اطلاعات راجہ جہانگیر انور سمیت متعلقہ افسران بھی موجود تھے. اجلاس میں مجوزہ   پنجاب پریس اینڈ پبلکیشنزبل 2020 پر مشاورت کی گئی.

راجہ بشارت نے کہا کہ وزیر اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبہ میں متنازعہ مواد کی اشاعت روکنے کے لیے موثر اقدامات کی ہدایت کی ہے لہذا پی ٹی آئی کی حکومت مکمل غوروخوص کے بعد ایک جامع پریس اینڈ پبلکیشنز ایکٹ لا رہی ہے جس کی بدولت متنازعہ موادکی اشاعت پر سخت کاروائی ممکن ہو گی. انہوں نے کہا کہ پنجاب پریس اینڈ پبلی کیشنز ایکٹ غیر مجاز اخباروں اور ممنوعہ مواد کی اشاعت کے ساتھ ساتھ تمام مذاہب کی توہین کے  سد باب میں بھی موثر ہو گا. اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات راجہ جہانگیر انور نے پنجاب پریس اینڈ پبلی کیشنز بل کے اہم نکات پر بریفنگ دی۔