پنجاب میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ایس او پیز کو سختی سے نافذ کرنے کا فیصلہ

  خلاف ورزی کی صورت میں بازاروں، دکانوں، تجارتی مراکز، صنعتی یونٹس اور ٹرانسپورٹ کو فوری طور پر بند کر دیا جائے: عبدالعلیم خان

 پنجاب میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ایس او پیز کو سختی سے نافذ کرنے کا فیصلہ

لاہور: پنجاب حکومت نے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ایس او پیز کو سختی سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں تمام ڈویژنل کمشنرز کو احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد یقینی بنانے اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی اور جرمانے کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں۔ فیصلہ صوبے میں کورونا وائرس کی صورتحال، ایس او پیز پر عملدرآمد اور پیٹرول کی مصنوعی قلت کا جائزہ لینے کیلئے چیف سیکرٹری کیمپ آفس میں منعقد اجلاس میں کیا گیا جس میں سینئر صوبائی وزیر عبد العلیم خان،وزیر صنعت میاں اسلم اقبال، چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، کمشنر لاہور، سی سی پی او لاہور اور متعلقہ افسران نے شرکت کی جبکہ آئی جی پنجاب، ڈویژنل کمشنرز اور آرپی اوز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر عبد العلیم خان نے ہدایت کی کہ انتظامی اور پولیس افسران ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروائیں اوراس سلسلے میں کسی سے کوئی رعائت نہ برتی جائے۔ انہوں نے کہا کہ خلاف ورزی کی صورت میں بازاروں، دکانوں، تجارتی مراکز، صنعتی یونٹس اور ٹرانسپورٹ کو فوری طور پر بند کر دیا جائے۔   اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیٹرول کا مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں کیخلاف کارروائی کیلئے اوگرا کو بھرپور انتظامی معاونت فراہم کی جائے گی اور انتظامی افسران کو 3ایم پی او کے تحت کارروائی کا اختیار بھی دیا جائے گا۔ عبدالعلیم خان نے چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب اور دیگر افسران کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کی ویلفیئرہماری ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوران ڈیوٹی کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے صحت، پولیس اور دیگر محکموں کے افسران اور ملازمین کو علاج کی بہترین سہولیات اور وفات کی صورت میں خصوصی پیکج دیا جائے گا۔ اجلاس میں کورونا مریضوں میں اضافے کے پیش نظر میڈیکل آکسیجن کی رسد یقینی بنانے کیلئے مقامی کمپنیوں سے رابطے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے ہدایت کی کہ ڈویژنل کمشنرز عید الاضحی اور محر م کے انتظامات سے متعلق سفارشات بھجوائیں تاکہ انکی روشنی میں حکمت عملی کو حتمی شکل دی جا سکے۔