پنجاب کے متعدد سیاحتی مقامات کی بحالی کا فیصلہ: آصف محمود

ہرن مینار، ہڑپہ کے کھنڈرات، شالامار باغ، ٹیکسلا جیسے تاریخی مقامات بحال کرینگے  ہربنس پورہ لاہور میں ٹورازم اینڈ ہاسپٹیلٹی کالج قائم کیا جائیگا مشیر وزیراعلیٰ

پنجاب کے متعدد سیاحتی مقامات کی بحالی کا فیصلہ: آصف محمود

لاہور :مشیر سیاحت و آثار قدیمہ آصف محمود کی زیرصدارت ٹورازم اور آثار قدیمہ کی بحالی پر اجلاس میں پنجاب کے متعدد سیاحتی مقامات کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایم ڈی ٹورازم کارپوریشن تنویر جبار، ایڈیشنل سیکرٹری ٹورازم افتخار علی، ڈائریکٹر آرکیالوجی، جنرل منیجر ایڈمن محسن عباس شاکر اور دیگر افسروں نے بھی شرکت کی۔ آصف محمود نے زور دیا کہ تاریخی مقامات کی سیاحت کو ٹورازم ڈیپارٹمنٹ سے الگ نہیں رکھا جاسکتا۔ ماضی میں انہیں الگ رکھنے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جاسکے۔ اب مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے تاریخی مقامات کو زیادہ بہتر انداز میں پرکشش بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہرن مینار شیخوپورہ، ہڑپہ کے پانچ ہزار سال قدیم کھنڈرات، شالامار باغ، ٹیکسلا جیسے تاریخی مقامات بحال کئے جا رہے ہیں۔ ان لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ کے آلات جلد ٹی ڈی سی پی کے حوالے کئے جائیں گے جس سے جھیلوں اور دریاؤں پر تفریح کا اچھا سامان مہیا ہو سکے گا۔ مشیر وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہربنس پورہ لاہور میں سٹیٹ آف دی آرٹ ٹورازم اینڈ ہاسپٹیلٹی کالج قائم کیا جائیگا جس سے تربیت یافتہ افرادی قوت میسر آ سکے گی۔

ملتان، ڈی جی خان کے مزارات کی زیارت کیلئے ٹرانسپورٹ سروس کے اجرا پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ دربار سخی سرور کے مقام کو زیادہ پرکشش بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آصف محمود نے کہا کہ ہمارے ملک کی آبادی کا تقریباً 70 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر یوتھ ٹورازم کے فروغ پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے جلد وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو بریفنگ دی جائے گی۔ تاریخی مقامات پر شجرکاری کے لئے پی ایچ ایز سے ایم او یوز کریں گے تاکہ سیاحوں کو زیادہ متوجہ کیا جاسکے۔