بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پینشن میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ

آج پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ میں تنخواہیں اور پینشن گزشتہ سال کی سطح پر برقرار رہیں گی، پاور سیکٹر سبسڈی کیلئے 200 ارب روپے رکھے جائیں گے اور 300 یونٹ سے کم گھریلو صارفین کیلئے 132 ارب روپے سبسڈی کی تجویز ہے

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پینشن میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی بجٹ کچھ دیر بعد وزیر صنعت و پیداوارحماد اظہر قومی اسمبلی میں پیش کریں گے، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اورپینشن میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں کسی رعایت کا امکان نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق آج پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ میں تنخواہیں اور پینشن گزشتہ سال کی سطح پر برقرار رہیں گی، پاور سیکٹر سبسڈی کیلئے 200 ارب روپے رکھے جائیں گے اور 300 یونٹ سے کم گھریلو صارفین کیلئے 132 ارب روپے سبسڈی کی تجویز ہے۔

وفاقی کابینہ نے بجٹ تجاویزکی منظوری دے دی ہے، چونتیس سو ارب روپے سے زائد خسارے کا وفاقی بجٹ وزیر صنعت و پیداوارحماد اظہر قومی اسمبلی میں پیش کریں گے ۔ بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے اورنان فائلرز کیلئے ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز ہے،جبکہ تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں کسی رعایت کا امکان نہیں ہے  بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کا قومی ترقیاتی بجٹ 1324 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، وفاقی کا ترقیاتی بجٹ 650 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے اور صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 674ارب روپے تجویز کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق بجٹ میں آئندہ مالی سال جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 2.1فیصد رکھنے کی تجویز ہے، زرعی شعبے کی نمو کا ہدف 2.8فیصد رکھنے کی تجویز ہے، صنعتی شعبے کی نمو کا ہدف 0.1فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ مینوفیکچرنگ کے شعبے کا ہدف منفی 0.7فیصد ، بڑی صنعتوں کی گروتھ کا ہدف منفی 2.5فیصد ، تعمیراتی شعبے کی گروتھ کا ہدف3.4فیصد ، خدمات کے شعبے کی ترقی کا ہدف 2.6فیصد اور بجلی پیداوار اور گیس تقسیم کے شعبے کی گروتھ کا ہدف 1.4 فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔